← تمام اردو کہانیاں

کھڑکی کے اُس پار

A quiet window with raindrops, city outside at night, warm light inside, reflective mood

شہر کی ایک پرانی عمارت کی تیسری منزل پر نائلہ رہتی تھی۔ اس کا دن زیادہ تر کھڑکی کے پاس گزرتا۔

وہ باہر دیکھتی، لوگوں کو آتے جاتے، ہنستے بولتے، اور دل ہی دل میں فیصلے کرتی۔

“یہ خوش ہے،” “یہ پریشان ہے،” “یہ خودغرض لگتا ہے۔”

نائلہ خود بہت کم بولتی تھی۔ اسے لگتا تھا دنیا اسے نہیں سمجھتی، اس لیے وہ بھی دنیا کو دور سے دیکھتی تھی۔

ہر شام ایک بوڑھا شخص نیچے والی گلی سے گزرتا۔ کندھوں پر بوجھ، چہرے پر تھکن۔

نائلہ ہمیشہ سوچتی: “کتنا اکیلا ہوگا… کسی کا نہیں لگتا۔”

ایک دن تیز بارش میں وہ بوڑھا پھسل کر گر گیا۔ نائلہ نے سب کچھ اپنی کھڑکی سے دیکھا۔

کسی نے آگے بڑھ کر مدد نہ کی۔

اس دن نائلہ پہلی بار نیچے اتری۔

بوڑھے کا نام یوسف تھا۔ وہ روز اپنی بیمار بیٹی کے لیے دوا لینے جاتا تھا۔

نائلہ کو شرمندگی ہوئی۔ اس نے صرف دیکھا تھا، سمجھا نہیں تھا۔

آہستہ آہستہ نائلہ اور یوسف کی بات چیت شروع ہو گئی۔ تنہائی کم ہونے لگی۔

ایک دن یوسف نے کہا: “بیٹی، تم کھڑکی سے دیکھتی ہو، مگر تمہاری آنکھوں میں رحم ہے۔ بس قدم بڑھانے کی دیر تھی۔”

نائلہ نے کھڑکی بند کر دی۔ اور دنیا میں کھل گئی۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

کھڑکی کے اُس پار کی دنیا تب صاف نظر آتی ہے، جب ہم خود باہر نکلتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →