نامکمل تصویر
شہر کے پرانے آرٹ کالونی کے ایک خاموش کمرے میں ارسلان رہتا تھا۔ کمرہ چھوٹا تھا، مگر دیواروں پر لگی آدھی ادھوری تصویریں اسے بڑا بناتی تھیں۔
کہیں آدھا چہرہ، کہیں نامکمل ہاتھ، کہیں صرف آنکھیں۔
ایک تصویر ایسی تھی جو سب سے الگ تھی۔ کینوس پر ایک شخص کھڑا تھا، مگر اس کا چہرہ خالی تھا۔
ارسلان اس تصویر کو برسوں سے مکمل نہیں کر سکا تھا۔
وہ ایک باصلاحیت مصور تھا، مگر اس کا نام کبھی کسی نمائش میں نمایاں نہیں ہوا۔
لوگ کہتے: “کام اچھا ہے، مگر کچھ ادھورا سا ہے۔”
یہ جملہ اس کے دل میں تیر بن کر لگتا۔
اصل کہانی برسوں پہلے شروع ہوئی تھی۔
ارسلان کے والد ایک سخت مزاج مگر محنتی انسان تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ارسلان انجینئر بنے، جبکہ ارسلان رنگوں میں جینا چاہتا تھا۔
ایک دن اس نے ہمت کر کے اپنی پہلی پینٹنگ والد کو دکھائی۔
والد نے ایک نظر دیکھا اور کہا: “اس سے گھر نہیں چلتا۔”
اسی دن ارسلان نے کینوس کے سامنے بیٹھ کر وہ تصویر بنانا شروع کی، جس کا چہرہ آج تک خالی تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
والد بیمار ہوئے، اور پھر ایک دن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
ارسلان کے دل میں ایک سوال رہ گیا: “اگر میں تصویر مکمل کر لیتا، تو کیا وہ مان جاتے؟”
یہ سوال اس کے ہاتھ روک لیتا۔
ایک دن اس کی ملاقات ایک بوڑھی خاتون سائرہ بی بی سے ہوئی، جو نیچے والی منزل میں رہتی تھیں۔
وہ اکثر اس کے کمرے میں آ کر تصویریں دیکھتیں۔
ایک دن انہوں نے خالی چہرے والی تصویر کے سامنے رک کر پوچھا: “یہ کون ہے؟”
ارسلان نے کہا: “یہ میں ہوں… یا شاید وہ میں جو کبھی بن نہیں سکا۔”
سائرہ بی بی مسکرائیں: “بیٹا، چہرہ تب بنتا ہے جب انسان خود کو معاف کر دیتا ہے۔”
یہ جملہ ارسلان کے دل میں اتر گیا۔
اسی رات اس نے پہلی بار کینوس پر برش اٹھایا۔
اس نے چہرہ نہیں بنایا۔ اس نے آنکھوں کے نیچے ہلکی سی لکیر بنائی، جیسے آنسو بہہ چکا ہو۔
پھر اس نے تصویر کے نیچے ایک چھوٹا سا آئینہ چپکا دیا۔
اگلے دن نمائش میں وہ تصویر رکھی گئی۔
لوگ رکے۔ دیکھتے رہے۔ خود کو آئینے میں دیکھتے رہے۔
یہ تصویر مشہور ہو گئی۔
کسی نے پوچھا: “یہ مکمل کیوں نہیں؟”
ارسلان نے جواب دیا: “کیونکہ زندگی بھی تو مکمل نہیں ہوتی۔”
اسی دن ارسلان نے پہلی بار سکون محسوس کیا۔
وہ جان گیا تھا کہ وہ نامکمل نہیں تھا، بس مختلف تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر نامکمل چیز ناکامی نہیں ہوتی
- بعض خواب وقت سے پہلے دفن ہو جاتے ہیں، مگر مرتے نہیں
- خود کو معاف کرنا سب سے بڑا فن ہے
- زندگی کی اصل خوبصورتی اس کی نامکملی میں ہے
— اختتام —