خاموش گواہ
شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانا پارک تھا۔ درخت اونچے، مگر سایہ کم۔ بینچ ٹوٹی ہوئی، مگر یادوں سے بھری۔
اسی پارک کی ایک کونے والی بینچ پر نعمان ہر شام آ کر بیٹھتا تھا۔ ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت، ایک ہی خاموشی۔
لوگ اسے ایک عام سرکاری کلرک سمجھتے تھے۔ فائلیں اٹھانے والا، سر جھکائے چلنے والا، نظر نہ آنے والا انسان۔
مگر نعمان کے اندر ایک شور تھا جو برسوں سے دبا ہوا تھا۔
یہ سب اُس دن سے شروع ہوا تھا، جب وہ ایک حادثے کا خاموش گواہ بن گیا تھا۔
نعمان اس دن دفتر سے جلدی نکلا تھا۔ بارش ہونے والی تھی۔ پارک کے پاس ایک تیز آواز آئی — بریک، چیخ، اور پھر سناٹا۔
ایک نوجوان لڑکا سڑک پر گرا پڑا تھا۔ سامنے ایک مہنگی گاڑی رکی، اور پھر بغیر رکے آگے بڑھ گئی۔
نعمان نے سب کچھ دیکھا تھا۔ نمبر پلیٹ بھی۔ چہرہ بھی۔
لوگ جمع ہو گئے۔ ایمبولینس آئی۔ پولیس آئی۔
ایک افسر نے پوچھا: “کسی نے حادثہ دیکھا ہے؟”
نعمان کے ہونٹ ہلے… مگر آواز نہ نکلی۔
اسے نوکری یاد آ گئی۔ اسے طاقتور لوگوں کا خوف یاد آ گیا۔ اسے اپنی خاموش، محفوظ زندگی پیاری لگنے لگی۔
اس نے سر جھکا لیا۔
لڑکا بعد میں اسپتال میں مر گیا۔
اگلے دن اخبار میں چھوٹی سی خبر تھی۔ “نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے نوجوان جاں بحق”
نعمان نے اخبار تہہ کر دیا۔ مگر اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا۔
اس دن کے بعد وہ ہر شام اسی پارک میں بیٹھنے لگا۔ وہی بینچ۔ وہی جگہ جہاں وہ سچ بول سکتا تھا… مگر نہ بولا۔
وقت گزرتا گیا۔
نعمان کو ترقی ملی۔ تنخواہ بڑھی۔ زندگی چلتی رہی۔
مگر رات کو وہ سو نہیں پاتا تھا۔
اسے خواب میں وہ لڑکا نظر آتا۔ خاموش، سوال بھری آنکھوں کے ساتھ۔
ایک شام ایک چھوٹی بچی اس کے پاس آ کر بینچ پر بیٹھ گئی۔ بولی: “انکل، آپ یہاں روز کیوں بیٹھتے ہیں؟”
نعمان نے پہلی بار سچ کہا: “میں خود سے ملنے آتا ہوں۔”
بچی نے معصومیت سے پوچھا: “مل جاتے ہو؟”
نعمان خاموش ہو گیا۔
اسی دن اسے معلوم ہوا کہ وہ لڑکا اسی بچی کا بھائی تھا۔ اور وہ بچی روز اس پارک میں اس لیے آتی تھی کہ اس کا بھائی یہاں آخری بار دکھائی دیا تھا۔
نعمان کے اندر کچھ ٹوٹ کر بہہ گیا۔
اگلے دن وہ پولیس اسٹیشن گیا۔ اس نے سب کچھ بتایا۔ نمبر پلیٹ، چہرہ، وقت، ہر تفصیل۔
کیس دوبارہ کھلا۔ مہینوں بعد مجرم پکڑا گیا — ایک بااثر شخص۔
نعمان کو دھمکیاں ملیں۔ مشکلات آئیں۔ نوکری چلی گئی۔
مگر ایک دن وہی بچی پارک میں اس کے پاس آئی، اور بولی: “انکل، اب میرا بھائی سکون میں ہے۔”
نعمان نے آسمان کی طرف دیکھا۔ پہلی بار اسے خاموشی ہلکی لگی۔
وہ جان گیا تھا: خاموش رہنا کبھی کبھی سب سے بڑا شور ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خاموشی بھی ایک فیصلہ ہوتی ہے
- سچ نہ بولنا بھی ناانصافی میں شامل ہونا ہے
- وقتی سکون ہمیشہ دائمی بوجھ بن جاتا ہے
- ضمیر کی آواز دبائی جا سکتی ہے، ختم نہیں
— اختتام —