← تمام اردو کہانیاں

خواب کا آخری منظر

ایک کمرہ، آدھی کھلی کھڑکی سے چاندنی اندر آ رہی ہے، اور ایک میز پر کھلی ہوئی ڈائری میں ادھورا جملہ لکھا ہے۔

میں نے گھڑی دیکھی — رات کے دو بجے تھے۔ کمرے میں خاموشی پھیلی تھی، مگر دل کے اندر شور تھا۔ ڈائری میز پر کھلی تھی، آخری صفحے پر لکھا تھا: “جب تم واپس آؤ، تو مجھے جگا دینا۔”

میں نے وہی جملہ پچھلے کئی ہفتوں سے روز دیکھا تھا۔ نہ میں جانتا تھا کس نے لکھا، نہ یہ کہ "تم" کون تھا۔ مگر ہر رات وہ تحریر کچھ اور گہری محسوس ہوتی۔

باہر چاند کی روشنی دیوار پر کسی چہرے کا سایہ بن رہی تھی۔ میں نے کھڑکی کھولی — ہوا کے جھونکے کے ساتھ ایک مدھم خوشبو آئی، جیسے کسی نے ابھی ابھی یہاں سے گزر کر سانس لی ہو۔

کمرے کے کونے میں رکھا پرانا آئینہ ہلکا سا لرزا۔ میں قریب گیا۔ اپنی پرچھائی دیکھی، مگر… وہ میری نہیں تھی۔ وہ مسکرا رہی تھی — اور میں نہیں۔

“تم واپس آگئے؟” اُس نے آئینے کے اندر سے کہا۔ میں پیچھے ہٹا۔ “کون؟” اُس نے کہا، “میں وہ ہوں جسے تم نے بھلا دیا۔” میں نے پھر ڈائری کی طرف دیکھا — جملہ بدل چکا تھا۔ اب لکھا تھا: “تم آ تو گئے، مگر جا کب پاؤ گے؟”

میں نے جلدی سے کمرے کی لائٹ جلائی۔ سب کچھ معمول پر تھا، مگر گھڑی اب تین نہیں، تین دن آگے کی تاریخ دکھا رہی تھی۔

اگلی صبح جب میں جاگا، ڈائری بند تھی، مگر میز پر ایک نئی تحریر لکھی تھی: “ہر بار جب تم لکھتے ہو، میں جاگ جاتی ہوں۔”

اس دن سے میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ مگر رات کو جب چاند کھڑکی میں آتا ہے، مجھے لگتا ہے — کوئی اور لکھ رہا ہے، میرا ہی نام لے کر۔

مفہوم / عکاسی:
“خواب کا آخری منظر” اس احساس کی کہانی ہے کہ شاید ہماری تحریریں، یادیں، اور خواب ایک دوسرے کی دنیا میں زندہ رہتے ہیں۔ کبھی ہم اُنہیں لکھتے ہیں — کبھی وہ ہمیں۔

— اختتام —