← تمام اردو کہانیاں

آخری خط

بارش میں بھیگا ہوا پرانا خط، جس پر سیاہی دھندلا چکی ہے، مگر ایک جملہ اب بھی پڑھا جا سکتا ہے: “میں واپس آؤں گا۔”

وہ خط آج بھی میرے میز کی دراز میں رکھا ہے۔ دس سال گزر گئے، مگر کاغذ پر لکھی سیاہی اب بھی سانس لیتی ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو لگتا ہے جیسے وہ الفاظ پھر سے بھیگنے لگتے ہیں۔

اُس دن وہ جا رہا تھا — ایک ادھورا الوداع کہہ کر۔ میں نے پوچھا، “کب واپس آؤ گے؟” اُس نے ہنستے ہوئے کہا، “بارش کے بعد جب ہوا خوشبو لائے گی، تب۔”

برسوں سے بارشیں آتی گئیں، خوشبو بھی آئی، مگر وہ نہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے شاید وہ لوٹ آیا ہے، ان قطروں کے بھیس میں جو میرے ہاتھوں پر گرتے ہیں۔

میں نے اُس کے خط کو کئی بار پڑھا — ایک جملہ ہمیشہ نیا لگتا ہے: “محبت وقت سے نہیں، انتظار سے ماپی جاتی ہے۔”

میں نے سوچا، شاید وہ ٹھیک کہتا تھا۔ کیونکہ میں نے وقت کو نہیں روکا، مگر دل کو اب تک آگے نہیں بڑھنے دیا۔

ایک دن میں نے ہمت کی اور خط جلانے کے لیے دیا سلائی جلائی۔ مگر جیسے ہی شعلہ قریب آیا، ہوا چلنے لگی۔ کاغذ کے کنارے ہلے، مگر آگ نہیں لگی — جیسے وہ خط خود نہیں جلنا چاہتا تھا۔

تب میں نے سمجھا، کچھ یادیں نہیں جلتی، وہ صرف جگہ بدلتی ہیں — کاغذ سے دل تک۔

آج میں بارش میں وہ خط پھر سے پڑھ رہی ہوں۔ لفظ دھندلے ہو گئے ہیں، مگر ایک جملہ اب بھی واضح ہے: “میں واپس آؤں گا۔” اور شاید… وہ آ گیا ہے — ان بوندوں میں، جن میں اُس کی آواز چھپی ہے۔

مفہوم / عکاسی:
“آخری خط” محبت کے اُس جذبے کی کہانی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا، صرف بدل جاتا ہے۔ کبھی وہ لفظوں میں رہتا ہے، کبھی خاموشی میں۔ اور کبھی بارش کی بوندوں میں چھپ کر لوٹ آتا ہے۔

— اختتام —