← تمام اردو کہانیاں

ریت میں دبا ہوا شہر

سنہری صحرا کے درمیان مٹی سے ابھرتے پرانے ستون،
جن پر سورج کی آخری کرنیں پڑ رہی ہیں، جیسے وقت خود رک گیا ہو۔

سورج صحرا کی ریت پر دہک رہا تھا۔ ہم تین لوگ ایک قدیم نقشے کے سہارے اُس جگہ پہنچے، جہاں کہا جاتا تھا کہ صدیوں پہلے ایک شہر تھا — *دَرابہ*. ایک ایسا شہر جس کی گلیاں سونا اوڑھتی تھیں، مگر جس کے دروازے وقت نے بند کر دیے۔

ریت میں دبے پتھروں پر کندہ الفاظ ابھی تک دکھائی دیتے تھے — “جو وقت کو چیلنج کرے، وہ خود وقت بن جاتا ہے۔” میں نے انگلی سے مٹی ہٹائی، نیچے ایک سنگی تختی برآمد ہوئی — اس پر ایک چہرہ تراشا گیا تھا، مگر آنکھیں مٹ چکی تھیں۔

مقامی بوڑھا جو ہمیں وہاں لایا تھا، بولا: “یہ بادشاہ *دارفان* کی یادگار ہے، جس نے وقت کو روکنے کی کوشش کی تھی۔” میں نے پوچھا، “کیسے؟” اُس نے آہستہ کہا، “اس نے ہر دن ایک ہی گھڑی میں جینا شروع کیا۔ صبح، شام، رات — سب ایک لمحے میں بند۔”

ہم نے مزید کھدائی کی، تو ایک کمرہ نمودار ہوا — چھت پر ستاروں کا نقش، دیواروں پر دائرے۔ بیچ میں ایک پتھریں کرسی رکھی تھی، جیسے کوئی ابھی ابھی اُٹھ کر گیا ہو۔ اُس کے پاس ایک لوح رکھی تھی، جس پر لکھا تھا: “میں نے وقت کو روکا — اور وقت نے مجھے بھولا دیا۔”

ہوا تیز ہونے لگی۔ ریت کے طوفان نے آنکھوں میں دھند بھر دی۔ ہم پیچھے ہٹے، مگر آواز آئی — جیسے کسی نے کرسی پر پھر سے بیٹھ کر سانس لی ہو۔

جب طوفان تھما، تو کرسی خالی تھی۔ مگر تختی پر لکھا جملہ بدل چکا تھا: “کوئی واپس آیا تھا۔”

ہم نے مقام کو بند کر دیا — مگر دل نہیں۔ کیونکہ کچھ تاریخیں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف انتظار کرتی ہیں کہ کوئی پھر انہیں پڑھ لے۔

آج بھی جب میں نقشے دیکھتا ہوں، اُس جگہ کے گرد ہلکی سی چمک محسوس ہوتی ہے — جیسے ریت کے نیچے اب بھی ایک شہر سانس لے رہا ہو۔

مفہوم / عکاسی:
“ریت میں دبا ہوا شہر” اس سچائی کو ظاہر کرتا ہے کہ تاریخ کبھی مکمل نہیں مرتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت سب کچھ مٹا دیتا ہے، مگر دراصل وقت اُنہیں چھپا لیتا ہے — تاکہ کوئی آنے والا اُنہیں دوبارہ ڈھونڈ سکے۔

— اختتام —