لفظوں کا قیدی
میں نے لکھنا اُس دن شروع کیا جب بولنا ختم ہو گیا۔ لفظ میرے لیے پناہ تھے، مگر آہستہ آہستہ وہی قید بن گئے۔ ہر جملہ جو میں لکھتا، وہ جیسے میرے اندر کا ایک حصہ چرا لیتا۔
راتوں کو جب سب سو جاتے، میں میز پر بیٹھ کر وہ کردار لکھتا جن کی کہانیاں ختم نہیں ہوتیں۔ ایک دن میں نے ایک کردار لکھا — *احمد*۔ ایک خاموش آدمی جو دن بھر لوگوں کی باتیں سنتا، مگر کبھی کچھ نہیں کہتا۔
لکھتے لکھتے میں نے محسوس کیا، احمد کے جملے میرے اپنے لگنے لگے۔ اُس کے خواب، اُس کی خاموشی، اُس کا خوف — سب میرے دل سے نکلے ہوئے تھے۔
ایک رات میں نے لکھا: “احمد نے اپنی کہانی مکمل کی — اور غائب ہو گیا۔” جیسے ہی میں نے یہ جملہ لکھا، کمرے میں چرچراہٹ سی ہوئی۔ میز پر رکھی موم بتی بجھ گئی۔
صبح جب میں جاگا، ڈائری بند تھی، مگر اُس پر میرا نام نہیں تھا۔ اب سرِورق پر لکھا تھا: “احمد — از ناصر حیات” (ناصر میرا کردار تھا، میرا نام نہیں۔)
میں نے حیرت سے ورق پلٹے۔ ہر صفحے پر میری زندگی لکھی تھی — وہ لمحے جو میں نے کبھی کسی کو نہیں بتائے تھے۔ اور آخر میں ایک جملہ: “لفظ اپنے خالق کو پہچان نہیں پاتے، جب وہ خود کہانی بن جائے۔”
اُس دن کے بعد میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ مگر کبھی کبھی، رات کے پچھلے پہر، میری بند ڈائری خود کھل جاتی ہے — اور ایک نیا جملہ ظاہر ہوتا ہے: “کہانی ابھی باقی ہے۔”
مفہوم / عکاسی:
“لفظوں کا قیدی” اس احساس کی علامت ہے
کہ تخلیق کبھی مکمل نہیں ہوتی۔
لکھاری جتنا اپنے لفظوں میں ڈوبتا ہے،
اتنا ہی وہ اپنے وجود سے دور چلا جاتا ہے۔
کیونکہ کبھی کبھی،
کہانی لکھاری کو نہیں — لکھاری کہانی کو لکھتا ہے۔
— اختتام —