ایک دن کی زندگی
آج میں نے فیصلہ کیا کہ صرف ایک دن جینا ہے — سچ مچ جینا۔ بغیر پچھتاوے، بغیر جلدی، بغیر خوف کے۔
میں نے الارم بند کیا، سورج کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آئی تو میں نے سوچا — شاید یہی زندگی کی اصل آواز ہے۔ کوئی شور نہیں، بس ایک نرم سا اجالا۔
ناشتے میں میں نے پہلی بار چائے کو سونگھا۔ اس کی خوشبو میں ماضی کے سارے موسم تھے۔ امی کی ہنسی، ابو کی آواز، اور وہ سب باتیں جو کبھی مکمل نہ ہو سکیں۔
دفتر جاتے ہوئے راستے میں ایک بچہ دیکھا جو پتنگ اڑا رہا تھا، مگر دھاگہ ٹوٹ گیا۔ وہ رویا نہیں — بس ہنسا، اور نئی پتنگ نکال لی۔ میں نے دل میں کہا، “شاید یہی زندگی ہے — ٹوٹ کر بھی مسکرا لینا۔”
شام کو واپسی پر آسمان سرخ تھا۔ ہوا میں عجیب سکون تھا۔ میں نے خود سے کہا، “کتنا کچھ روز دیکھتا ہوں، مگر محسوس نہیں کرتا۔” آج میں نے محسوس کیا — کہ دنیا اتنی بری بھی نہیں۔
رات کو میں نے اپنی پرانی ڈائری کھولی، اور صرف ایک جملہ لکھا: “زندگی کو بڑے لمحے نہیں چاہیے — بس ایک دن چاہیے، جو سچ ہو۔”
لائٹ بند کی، تو دل میں ایک ہلکی سی روشنی باقی تھی۔ شاید یہی وہ زندگی تھی جسے میں برسوں سے ڈھونڈ رہا تھا — جو کبھی کہیں نہیں گئی تھی، بس میرے انتظار میں تھی۔
مفہوم / عکاسی:
“ایک دن کی زندگی” یہ سکھاتی ہے
کہ ہم جتنا وقت کی دوڑ میں کھو جاتے ہیں،
اتنا ہی لمحے کھو دیتے ہیں۔
زندگی بڑی نہیں ہوتی —
وہ صرف تب گہری ہوتی ہے،
جب ہم اسے پوری طرح محسوس کرتے ہیں۔
— اختتام —