← تمام اردو کہانیاں

پہاڑوں کے پار

بادلوں میں لپٹے نیلے پہاڑ، درمیان سے گزرتی تنگ پگڈنڈی،
اور ایک اکیلا مسافر ہاتھ میں ڈائری لیے خاموشی میں کھویا ہوا۔

سفر کا آغاز ایک خاموش صبح سے ہوا۔ شہر ابھی جاگ رہا تھا، مگر میرے دل میں برسوں سے سوئی ہوئی خواہش بیدار تھی — پہاڑ دیکھنے کی، اُن میں چھپے سکون کو محسوس کرنے کی۔

بس کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو منظر بدل رہا تھا۔ بلند درخت، پتھریلے راستے، اور دھند کے پیچھے جھلکتے پہاڑ — جیسے کسی خواب کے پردے کے پیچھے حقیقت کھڑی ہو۔

راستے میں ایک بزرگ مسافر ساتھ بیٹھے تھے۔ اُنہوں نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، پہاڑ انسان کو چھوٹا نہیں کرتے، وہ اُسے سمجھدار بنا دیتے ہیں۔” میں نے سر ہلایا، مگر اُس وقت ان کے معنی نہ سمجھی۔

جب میں وادی پہنچا، تو ہوا میں ایک ایسی خاموشی تھی جو دل کو سننے پر مجبور کرتی ہے۔ ندی بہہ رہی تھی، پرندے بول رہے تھے، مگر پھر بھی سب کچھ پر سکون تھا۔ جیسے وقت خود رک کر سانس لے رہا ہو۔

میں نے جوتے اتارے اور ندی کے پتھروں پر بیٹھ گیا۔ پانی ٹھنڈا تھا، مگر دل گرم — جیسے زندگی پہلی بار چھو رہی ہو۔

شام کو آسمان نے رنگ بدلے — نیلا، نارنجی، سنہری، پھر سیاہ۔ میں نے اپنی ڈائری کھولی اور لکھا: “میں پہاڑوں کے پار آیا تھا کچھ ڈھونڈنے، مگر یہاں آ کر احساس ہوا — میں خود ہی اپنی منزل ہوں۔”

اگلی صبح میں واپس روانہ ہوا۔ راستہ وہی تھا، مگر نظریں بدل گئی تھیں۔ ہر درخت، ہر موڑ، ہر ہوا کا جھونکا اب کسی راز کی طرح لگ رہا تھا — جیسے سب کچھ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ میں آؤں گا۔

جب شہر واپس آیا تو محسوس ہوا کہ پہاڑ پیچھے نہیں رہ گئے — وہ میرے اندر بس گئے ہیں۔ اور اب جب بھی آنکھیں بند کرتا ہوں، مجھے وہی وادی نظر آتی ہے، جہاں خاموشی بھی بولتی تھی۔

مفہوم / عکاسی:
“پہاڑوں کے پار” اس سچائی کو ظاہر کرتا ہے کہ اصل سفر راستوں پر نہیں ہوتا — وہ انسان کے اندر ہوتا ہے۔ پہاڑ ہمیں چھپنے نہیں دیتے، وہ ہمیں اپنا اصل چہرہ دکھا دیتے ہیں۔

— اختتام —