← تمام اردو کہانیاں

آخری کمرہ

پرانی حویلی کے اندر ایک بند دروازہ،
جس کے نیچے سے روشنی کی ایک پتلی لکیر باہر جھانک رہی ہے۔

حویلی سو سال پرانی تھی۔ دیواروں پر مٹی کی خوشبو اور وقت کی خاموشی پھیلی تھی۔ میں وہاں ایک مضمون کے لیے آیا تھا — *“لاہور کی بھولی ہوئی حویلیاں”*۔

مگر جس کمرے کے بارے میں سب خاموش تھے، اُس کا ذکر سب کی آنکھوں میں تھا۔ نوکر بولا، “صاحب، اوپر آخری کمرہ مت کھولنا۔” میں نے مسکرا کر کہا، “کیوں، وہاں کون ہے؟” اُس نے نظریں جھکائیں، “جو کبھی گیا، واپس نہیں آیا۔”

رات کو جب سب سو گئے، میں نے وہ زنگ آلود چابی نکالی جو دروازے کے پاس رکھی تھی۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت ہر قدم جیسے ماضی کے اندر اتر رہا تھا۔ ہوا میں سرد مہک تھی — جیسے کسی نے ابھی سانس لی ہو۔

دروازہ کھولا تو اندھیرا نہیں تھا — بلکہ ہلکی نیلی روشنی تھی، جو کمرے کے درمیان رکھی ایک پرانی میز سے آ رہی تھی۔ میز پر ایک نوٹ پڑا تھا: “تم بھی آ گئے؟ بہت دیر کر دی تم نے۔”

میں چونک گیا۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ مگر ایک آئینہ سامنے تھا — اُس میں ایک سایہ ہلکا سا مسکرا رہا تھا۔ وہ میرا عکس نہیں تھا۔

میں قریب گیا تو آواز آئی، “تم میرا مضمون مکمل کرنے آئے ہو، نا؟ *لاہور کی بھولی ہوئی حویلیاں*؟” میں نے پیچھے ہٹ کر کہا، “ہاں، مگر تم… تم کون ہو؟” اُس نے جواب دیا، “میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے یہ مضمون لکھنے کی کوشش کی تھی۔”

اچانک روشنی مدھم ہوئی، اور فرش پر ایک ڈائری ظاہر ہوئی — اُس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا: “آخری کمرہ کھولنے والا، خود کہانی بن جاتا ہے۔”

اگلی صبح جب لوگ اوپر گئے، کمرہ بند تھا۔ مگر میز پر ایک نیا نوٹ رکھا تھا: “تحریر: ماہِرہ انصاری — *لاہور کی بھولی ہوئی حویلیاں*، باب نمبر آخری۔”

مفہوم / عکاسی:
“آخری کمرہ” اس احساس کی کہانی ہے کہ کچھ راز ہم ڈھونڈتے نہیں — وہ خود ہمیں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ اور جب ہم اُنہیں جان لیتے ہیں، تو ہم خود اُن کا حصہ بن جاتے ہیں۔

— اختتام —