خاموش دل
وہ صبح ہلکی بارش سے شروع ہوئی تھی۔ سڑک کے کنارے برگد کے درخت سے قطرے گر رہے تھے، اور عائشہ کے ہاتھ میں وہی پرانا نیلا لفافہ تھا — جو کبھی بھیجنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔
خط کے اندر وہ سب تھا جو اُس نے کبھی کہا نہیں۔ “احمد، تم گئے نہیں، بس خاموش ہو گئے ہو۔ اور میں آج بھی تمہاری خاموشی میں زندہ ہوں۔”
تین سال گزر گئے تھے۔ عائشہ اب شہر بدل چکی تھی، لوگ بدل گئے تھے، لیکن دل کے اندر وہی بارش رکی نہیں تھی۔ وہ روز دفتر جاتے ہوئے ایک ہی بینچ پر بیٹھتی، جہاں وہ دونوں پہلی بار ملے تھے۔
اُس دن وہ بینچ بھیگ رہی تھی۔ عائشہ نے لفافہ کھولا — سیاہی پھیل گئی۔ جیسے یادوں نے خود کو چھپا لیا ہو۔
اچانک اُس کے قریب ایک بوڑھا شخص آ کر بیٹھا۔ اُس نے کہا، “بیٹی، تم روز یہاں آتی ہو۔ کیا کسی کا انتظار ہے؟” عائشہ نے مسکرا کر کہا، “ہاں، ایک جواب کا۔”
بوڑھا کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا، “کچھ جوابات خطوں میں نہیں ملتے، بیٹی۔ وہ دل میں خاموش ہو کر رہ جاتے ہیں — جیسے سانس۔”
عائشہ نے اُس کی بات پر سر جھکایا۔ بارش تھم چکی تھی، مگر اُس کے آنسو نہیں۔ اُس نے لفافہ اُٹھایا، درخت کے نیچے رکھا، اور بولی، “اب یہ خاموشی اُس تک پہنچ جائے گی۔”
ہوا چلی — لفافہ اڑا، آسمان کی طرف۔ شاید وہ واقعی پہنچ گیا ہو۔
اگلے دن جب وہ بینچ پر گئی، درخت کے تنے پر ایک نیا لفظ لکھا تھا: “سنا، مگر دیر سے۔”
مفہوم / عکاسی:
“خاموش دل” اُن احساسات کی کہانی ہے
جو زبان سے ادا نہیں ہوتے مگر عمر بھر بولتے رہتے ہیں۔
کچھ خط ہم لکھتے نہیں — وہ خود ہمیں لکھ جاتے ہیں۔
— اختتام —