وہ کمرہ جس میں کوئی نہیں رہتا تھا
پرانے شہر کے ایک خاموش محلے میں ایک دو منزلہ مکان تھا۔
دروازے پر تالا نہیں تھا،
مگر برسوں سے کوئی اندر نہیں آیا تھا۔
لوگ کہتے تھے:
“وہ کمرہ اب خالی ہے۔”
مگر کامران جانتا تھا —
وہ کمرہ خالی نہیں تھا،
بس بند تھا۔
کامران برسوں بعد اس گھر میں واپس آیا تھا۔
والدین کے انتقال کے بعد شہر چھوڑ دیا تھا،
اور خود سے بھی۔
گھر میں داخل ہوتے ہی گرد کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔
ہر چیز اپنی جگہ تھی،
جیسے وقت رک گیا ہو۔
سیڑھیوں کے آخر میں وہ دروازہ تھا۔
وہی کمرہ
جس میں کوئی نہیں رہتا تھا۔
یہ کمرہ اس کی بہن ماہم کا تھا۔
ماہم ہنستی کم تھی،
مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ سوال رہتے تھے۔
ایک دن ماہم نے کامران سے کہا تھا:
“اگر میں نہ رہوں، تو یہ کمرہ بند رکھنا۔
میں نہیں چاہتی کوئی میری خاموشی چھیڑے۔”
کچھ مہینوں بعد وہ واقعی نہ رہی۔
حادثہ تھا…
یا شاید تھکن۔
کامران نے کمرہ بند کر دیا تھا،
اور شہر چھوڑ دیا تھا۔
آج برسوں بعد،
وہ دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔
ہاتھ کانپ رہے تھے۔
دروازہ کھولا تو
اندر سورج کی ایک لکیر داخل ہوئی۔
کمرہ سادہ تھا۔
ایک میز،
چند کتابیں،
اور دیوار پر ایک نوٹ:
“اگر تم یہ پڑھ رہے ہو، تو تم تیار ہو۔”
کامران بیٹھ گیا۔
ہر کتاب میں ایک خط تھا۔
ہر خط میں ایک سوال۔
“کیا تم نے خود کو معاف کیا؟”
“کیا تم اب بھی خاموشی سے بھاگتے ہو؟”
“کیا تم نے میرا دکھ خود پر لیا؟”
آخری خط میں لکھا تھا:
“کامران،
میں کمزور نہیں تھی،
بس اکیلی تھی۔
تم نے کمرہ بند کر کے مجھے نہیں بچایا،
مگر تم نے خود کو قید کر لیا۔
اب دروازہ بند نہ رکھنا۔”
کامران رو دیا۔
اگلے دن اس نے کمرہ صاف کیا۔
کھڑکی کھولی۔
پردے ہٹائے۔
کمرہ خالی نہیں تھا…
وہ آزاد ہو چکا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- بند دروازے دکھ کو ختم نہیں کرتے
- یادوں سے بھاگنا خود کو قید کرنا ہے
- شفا کا آغاز سامنا کرنے سے ہوتا ہے
- خالی کمرے اکثر سب سے زیادہ بولتے ہیں
وہی ہمیں خود سے ملواتا ہے۔
— اختتام —