ریت پر لکھا نام
سمندر کے کنارے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔
وہاں اسماعیل رہتا تھا —
خاموش،
کم گو،
اور یادوں میں الجھا ہوا۔
اسماعیل کا دن مچھلی پکڑنے میں گزرتا،
اور شام ریت پر چلتے ہوئے۔
ہر شام وہ ایک نام ریت پر لکھتا:
“سارہ”
اور کچھ دیر بعد لہروں کو اسے مٹا دینے دیتا۔
یہ اس کا روز کا معمول تھا۔
برسوں پہلے سارہ اسی قصبے میں آئی تھی۔
شہر کی لڑکی،
کھلے سوالوں والی آنکھیں۔
وہاں وہ تحقیق کے سلسلے میں آئی تھی —
سمندر، ماہی گیر، اور ساحلی زندگی۔
اسماعیل پہلی بار کسی سے اتنا بولا تھا۔
وہ دونوں اکثر ساحل پر چلتے،
باتیں کرتے،
خواب بانٹتے۔
سارہ کہتی: “کیا تم یہاں ہمیشہ رہو گے؟”
اسماعیل مسکرا کر کہتا:
“میں سمندر چھوڑ نہیں سکتا۔”
وقت گزرا۔
تحقیق مکمل ہوئی۔
سارہ کو جانا تھا۔
اس دن اسماعیل نے پہلی بار کسی کو روکنا چاہا،
مگر لفظ ریت جیسے ہاتھ سے پھسل گئے۔
سارہ نے جاتے ہوئے بس اتنا کہا:
“کچھ نام مٹتے نہیں، چاہے ریت پر ہی کیوں نہ لکھے ہوں۔”
برس گزر گئے۔
ایک شام ایک عورت ساحل پر آ کر رک گئی۔
بال سفید،
آنکھوں میں وہی سوال۔
اسماعیل نے پہچان لیا۔
سارہ واپس آئی تھی۔
اس نے کہا:
“میں نے بہت شہر دیکھے،
مگر سکون نہیں ملا۔”
اسماعیل نے ریت پر لکھا نام نہیں مٹنے دیا۔
اس دن لہر ٹھہر گئی تھی،
یا شاید اسماعیل کا دل۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر جدائی دائمی نہیں ہوتی
- وقت بہت کچھ مٹا دیتا ہے، مگر سب کچھ نہیں
- خاموش محبت شور سے زیادہ گہری ہوتی ہے
- جو دل پر لکھا ہو، وہ مٹتا نہیں
— اختتام —