← تمام اردو کہانیاں

آئینے کے سامنے

A dimly lit room with a cracked mirror reflecting a thoughtful man, moody and introspective atmosphere

شہریار کو آئینے پسند نہیں تھے۔ نہ بڑے، نہ چھوٹے، نہ وہ جو دیواروں پر لگے ہوتے ہیں اور نہ وہ جو باتھ روم میں روز اس کا انتظار کرتے تھے۔

وہ جب بھی آئینے کے سامنے آتا، نظر چرا لیتا۔

اسے لگتا تھا آئینہ سوال پوچھتا ہے، اور شہریار کے پاس جواب نہیں ہوتے۔

شہریار ایک کامیاب وکیل تھا۔ نام، پیسہ، اثر و رسوخ — سب کچھ تھا۔

مگر ایک چیز کم تھی: سکون۔

ایک کیس نے اس کی زندگی بدل دی۔

ایک غریب مزدور پر الزام تھا کہ اس نے فیکٹری میں آگ لگائی۔ شہریار جانتا تھا کہ مزدور بے گناہ ہے۔

مگر فیس زیادہ تھی، اور مخالف پارٹی طاقتور۔

شہریار نے جیت کا راستہ چن لیا، سچ کا نہیں۔

عدالت میں فیصلہ آیا۔ مزدور جیل چلا گیا۔ فیکٹری چلتی رہی۔

اس رات شہریار پہلی بار آئینے کے سامنے ٹھہرا۔

آئینے میں چہرہ تھا، مگر آنکھیں اجنبی تھیں۔

برس گزر گئے۔

ایک دن شہریار کی بیٹی نے پوچھا: “ابو، آپ سچ کے لیے لڑتے ہیں نا؟”

سوال سادہ تھا، مگر دل چیر دینے والا۔

اسی رات اس نے آئینہ اتارا اور دیوار کے ساتھ ٹکا دیا۔

وہ اس سے بھاگتا رہا۔

ایک دن خبر آئی کہ وہی مزدور جیل میں مر گیا۔

شہریار دیر تک کرسی پر بیٹھا رہا۔

پھر وہ آہستہ آہستہ آئینے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔

اس بار نظر نہیں چرائی۔

اس نے خود سے کہا: “تم جیتے… مگر ہار گئے۔”

اگلے دن اس نے وہ کیس دوبارہ کھلوانے کی درخواست دی۔ لوگ حیران تھے۔ دوست ناراض۔ کاروبار متاثر۔

مگر شہریار پہلی بار سیدھا کھڑا تھا۔

عدالت میں اس نے اعتراف کیا۔ سچ سامنے آیا۔ مزدور کا نام بے گناہوں کی فہرست میں لکھا گیا۔

شہریار نے سب کچھ کھو دیا، مگر خود کو پا لیا۔

اب وہ روز آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ خاموش۔ مطمئن۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جو شخص آئینے کے سامنے سچ بول لے،
وہ دنیا کے سامنے کبھی نہیں جھکتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →