← تمام اردو کہانیاں

وہ دن جو کبھی نہیں آیا

An empty railway platform at dawn, abandoned bench, soft fog, melancholic and reflective mood

ریلوے اسٹیشن شہر کے سب سے خاموش حصے میں تھا۔ صبح سویرے یہاں صرف پرندوں کی آواز آتی، اور لوہے کی پٹریوں پر اوس چمکتی تھی۔

امجد ہر اتوار اسی پلیٹ فارم نمبر تین پر آ کر بیٹھتا تھا۔ ایک ہی بینچ، ایک ہی وقت، اور ایک ہی نظریں— دور آتی پٹریوں پر۔

لوگ اسے پاگل سمجھتے تھے۔ کچھ کہتے: “کسی کا انتظار ہے۔” کچھ کہتے: “عادت ہے، گزر جائے گی۔”

مگر امجد جانتا تھا کہ وہ جس دن کا انتظار کر رہا ہے، وہ عام دن نہیں تھا۔

پندرہ سال پہلے کی بات تھی۔

اسی پلیٹ فارم پر اس نے اپنی بیوی عائشہ کو الوداع کہا تھا۔ عائشہ شہر جا رہی تھی— نوکری، نئے خواب، اور ایک بہتر مستقبل کے وعدے کے ساتھ۔

جاتے وقت اس نے کہا تھا: “بس ایک سال… پھر ہم ساتھ ہوں گے۔ میں لوٹ آؤں گی، اسی پلیٹ فارم پر۔”

ٹرین چل پڑی تھی۔ عائشہ نے ہاتھ ہلایا تھا۔ اور امجد نے وقت کو رکتے دیکھا تھا۔

ایک سال گزرا۔ پھر دو۔ پھر پانچ۔

خط پہلے آتے رہے۔ پھر کم ہو گئے۔ پھر بند ہو گئے۔

لوگوں نے کہا: “وہ نہیں آئے گی۔ زندگی آگے بڑھاؤ۔”

مگر امجد نے ایک دن منتخب کر لیا تھا— وہ دن جب عائشہ لوٹے گی۔

وہ دن جو کبھی نہیں آیا۔

ماں باپ دنیا سے چلے گئے۔ گھر پرانا ہو گیا۔ بال سفید ہو گئے۔

مگر امجد ہر اتوار اسی پلیٹ فارم پر آتا رہا۔

ایک دن ایک نوجوان لڑکی اس کے پاس آ کر بیٹھی۔ اس نے پوچھا: “انکل، آپ کس کا انتظار کرتے ہیں؟”

امجد نے مسکرا کر کہا: “ایک وعدے کا۔”

لڑکی نے کہا: “اگر وعدہ پورا نہ ہو تو؟”

امجد نے پہلی بار سر جھکایا۔

اسی دن شام کو وہ پلیٹ فارم چھوڑ کر اس شہر کے یتیم خانے گیا جہاں عائشہ کبھی رضاکارانہ کام کیا کرتی تھی۔

وہاں بچوں کی ہنسی تھی۔ زندگی تھی۔

امجد نے اگلے اتوار اسٹیشن نہیں گیا۔ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔

وہ جان گیا تھا: کچھ دن نہیں آتے، مگر زندگی پھر بھی آتی ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جو دن کبھی نہیں آیا،
اس نے امجد کو جینا سکھا دیا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →