وقت کا قرض
نعمان کو ہمیشہ جلدی رہتی تھی۔ جلدی کام کی، جلدی کامیابی کی، اور جلدی زندگی گزارنے کی۔
اس کے لیے وقت صرف ایک ذریعہ تھا، ایک سیڑھی جس پر چڑھ کر وہ اوپر جانا چاہتا تھا۔
گھر میں ماں اکثر کہتیں: “بیٹا، ذرا بیٹھ بھی جایا کرو۔ وقت صرف دوڑنے کے لیے نہیں ہوتا۔”
نعمان مسکرا دیتا۔ “امّی، بعد میں۔”
وہ “بعد میں” کبھی نہیں آیا۔
نعمان کی نوکری اچھی تھی، عہدہ بڑھتا گیا، اور فون کبھی خاموش نہ ہوا۔
ماں بیمار ہوئیں۔ ڈاکٹر نے کہا انہیں کسی اپنے کی ضرورت ہے۔
نعمان نے نرس رکھ دی۔ “وقت نہیں ہے،” یہ جملہ اس کا عذر بن گیا۔
ایک رات فون آیا۔ اس بار فون خاموش نہیں ہوا، دل ہو گیا۔
ماں نہیں رہیں۔
نعمان اسپتال کے کمرے میں گھڑی کی ٹِک ٹِک سنتا رہا۔ ہر سیکنڈ اس پر قرض بن کر گرتا رہا۔
کچھ دن بعد وہ ماں کا کمرہ صاف کر رہا تھا تو ایک پرانی ڈائری ملی۔
ڈائری میں ایک جملہ لکھا تھا: “میں نے نعمان کو وقت دیا، کاش وہ بھی مجھے تھوڑا سا وقت دے دیتا۔”
نعمان کی آنکھیں بھر آئیں۔
اس دن اس نے گھڑی اتار دی۔ موبائل بند کیا۔ اور پہلی بار خاموشی میں بیٹھا۔
اس نے نوکری کے اوقات کم کر دیے۔ لوگوں کے لیے وقت نکالا۔ اور خود کے لیے بھی۔
وہ جان گیا تھا: وقت واپس نہیں آتا، مگر اس کا قرض زندگی بھر یاد رہتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہے
- “بعد میں” اکثر “کبھی نہیں” بن جاتا ہے
- رشتوں کو وقت نہ دینا
خاموش جدائی ہے - وقت کا قرض دولت سے ادا نہیں ہوتا
وہی وقت ہمیں بعد میں کھو دیتا ہے۔
— اختتام —