آخری کرسی
شہر کی سب سے بڑی عمارت کی ساتویں منزل پر
ایک لمبا ہال تھا۔
ہال کے آخر میں
ایک کرسی رکھی تھی—
اونچی پشت والی،
چمڑے کی،
اور باقی سب سے ذرا الگ۔
اسے لوگ
“آخری کرسی”
کہتے تھے۔
اس کرسی پر بیٹھنے والا ادارے کا سربراہ بنتا تھا۔
حارث برسوں سے اس عمارت میں کام کر رہا تھا۔ نیچے کی منزلوں سے اوپر تک پہنچا تھا۔ فائلیں اٹھاتے اٹھاتے فیصلے کرنے تک۔
وہ خود کو ایماندار سمجھتا تھا۔ صاف نیت، صاف کام۔
جب اسے بتایا گیا
کہ اگلا سربراہ وہی ہو گا،
تو اس نے دل ہی دل میں
خود کو شاباش دی۔
پہلا دن، وہ آخری کرسی پر بیٹھا۔
کمرہ خاموش تھا۔ سب نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
حارث کو اچھا لگا۔
پہلا فیصلہ ایک چھوٹا سا تھا—
ایک ملازم کو نکالنا
جو برسوں سے کام کر رہا تھا
مگر اب “فائدہ مند” نہیں رہا تھا۔
حارث نے دستخط کر دیے۔
اگلے دن ایک اور فیصلہ۔ پھر ایک اور۔
ہر دستخط کے ساتھ کرسی زیادہ آرام دہ لگنے لگی، اور دل ذرا سخت۔
ایک دن ایک بوڑھا ملازم اس کے سامنے آیا۔ کانپتی آواز میں بولا: “سر، میری نوکری چلی گئی تو میرا گھر نہیں چلے گا۔”
حارث نے فائل بند کی۔ کہا: “قانون سب کے لیے ایک ہے۔”
بوڑھا خاموشی سے چلا گیا۔
اسی رات حارث کو نیند نہیں آئی۔
اسے لگا کرسی اسے دیکھ رہی ہے۔
کچھ مہینوں بعد ادارے میں بحران آیا۔ غلط فیصلے، غلط سمت۔
بورڈ نے میٹنگ بلائی۔
اسی ہال میں وہی آخری کرسی اس بار خالی تھی۔
حارث کو بتایا گیا: “ہمیں نیا سربراہ چاہیے۔”
حارث نے ہال سے نکلتے وقت پیچھے مڑ کر دیکھا۔
کرسی وہی تھی، مگر اب وہ خالی تھی۔
اسے سمجھ آ گیا تھا: کرسی کسی کی نہیں ہوتی، انسان عارضی ہوتا ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اختیار انسان کو آزماتا ہے
- طاقت آہستہ آہستہ ضمیر بدل دیتی ہے
- فیصلے کرسی پر نہیں، انسان پر لکھے جاتے ہیں
- ہر کرسی آخرکار خالی ہو جاتی ہے
کہ آپ کس کرسی پر بیٹھے،
بلکہ یہ ہے
کہ اٹھتے وقت آپ کیسے انسان تھے۔
— اختتام —