← تمام اردو کہانیاں

چراغ جو جلتا رہا

A small oil lamp glowing in a dark room, warm light, deep shadows, symbolic and hopeful mood

گاؤں کے آخری کنارے
ایک ٹوٹی ہوئی جھونپڑی تھی۔
اسی جھونپڑی میں
ایک پرانا سا چراغ جلتا تھا۔

چراغ معمولی تھا، نہ خوبصورت، نہ قیمتی۔ مگر اس کی لو ہر رات گاؤں تک پہنچتی تھی۔

اس چراغ کو جلانے والا
بابا نور تھا۔

بابا نور بوڑھا تھا، خاموش تھا، اور تنہا تھا۔

لوگ کہتے تھے: “یہ کیا فائدہ؟ اندھیرا تو ہر طرف ہے۔”

بابا نور مسکرا دیتا۔ کچھ کہتا نہیں تھا۔

برسوں پہلے اسی راستے پر ایک حادثہ ہوا تھا۔ اندھیرے میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔

بابا نور نے اس دن فیصلہ کیا تھا کہ جب تک سانس ہے، چراغ جلتا رہے گا۔

تیل کم ہو تو وہ اپنا کھانا کم کر لیتا۔ لو تیز رکھنے کے لیے وہ ہوا سے جھونپڑی بند رکھتا۔

کبھی کسی نے پوچھا: “بابا، تمہیں کیا ملتا ہے؟”

بابا نور نے جواب دیا: “یہی کہ کوئی ٹھوکر نہ کھائے۔”

ایک رات شدید طوفان آیا۔ بارش، ہوا، اور اندھیرا۔

لوگ گھروں میں دبکے ہوئے تھے۔

اسی رات ایک عورت دردِ زہ میں تھی۔ اسے شہر لے جانا تھا۔

اندھیرے میں راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا، مگر چراغ جل رہا تھا۔

لوگ اسی روشنی میں عورت کو لے گئے۔

اگلی صبح چراغ بجھا ہوا تھا۔

بابا نور دنیا سے جا چکا تھا۔

مگر اس دن ہر گھر میں ایک دیا جلایا گیا۔

چراغ بجھ گیا، مگر روشنی پھیل گئی۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جو خود جل کر دوسروں کو راستہ دکھائے،
وہ کبھی اندھیرے میں نہیں مرتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →