سانسوں کے درمیان
ہسپتال کی پانچویں منزل
ہمیشہ خاموش رہتی تھی۔
وہاں شور نہیں،
صرف سانسوں کی آوازیں تھیں۔
ماہم اسی منزل پر داخل ہوئی تھی
جب ڈاکٹر نے کہا تھا:
“اب ہر سانس قیمتی ہے۔”
ماہم کی عمر صرف اٹھائیس سال تھی۔
زندگی کے خواب ابھی پورے بھی نہ ہوئے تھے
کہ بیماری نے اسے چارپائی سے باندھ دیا۔
پہلے دن وہ روئی۔ دوسرے دن خاموش رہی۔ تیسرے دن اس نے کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کیا۔
نیچے سڑک پر لوگ بھاگ رہے تھے۔ زندگی چل رہی تھی۔
ماہم نے نرس سے پوچھا: “یہ سب اتنی جلدی میں کیوں ہیں؟”
نرس نے مسکرا کر کہا: “انہیں نہیں معلوم کہ سانسوں کے درمیان بھی زندگی ہوتی ہے۔”
کمرے کے برابر والے بیڈ پر ایک بوڑھی عورت تھی۔ خاموش، کمزور، اور ہمیشہ تسبیح پکڑے۔
ایک رات ماہم نے پوچھا: “آپ ڈرتی نہیں؟”
بوڑھی عورت بولی: “ڈرتی ہوں، مگر شکر زیادہ کرتی ہوں۔”
ماہم نے پہلی بار اپنی سانس پر توجہ دی۔ اندر… باہر…
ہر سانس ایک نعمت لگنے لگی۔
کچھ دن بعد ڈاکٹر نے کہا: “خطرہ ٹل رہا ہے۔”
ماہم مسکرائی۔ مگر اب وہ پہلے جیسی نہیں تھی۔
ڈسچارج کے دن اس نے ہسپتال کے دروازے پر رک کر ایک لمبی سانس لی۔
وہ جان گئی تھی: زندگی لمبی ہو یا مختصر، اصل بات یہ ہے کہ ہم سانسوں کے درمیان کیا کرتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- زندگی کی قیمت بیماری میں سمجھ آتی ہے
- ہر سانس ایک موقع ہے
- شکر خوف سے بڑا ہوتا ہے
- جینا صرف زندہ رہنا نہیں، محسوس کرنا ہے
وہ کبھی خالی نہیں جیتا۔
— اختتام —