← تمام اردو کہانیاں

وہ آواز جو سنائی نہ دی

A crowded street with one silent person standing still, blurred motion around, emotional and symbolic mood

ساجد ایک عام سا آدمی تھا۔ نہ بہت نمایاں، نہ بہت خاموش— بس اتنا کہ لوگ اسے دیکھ کر بھی اکثر نظرانداز کر دیتے تھے۔

وہ شہر کی ایک مصروف سڑک کے کنارے چھوٹی سی دکان چلاتا تھا۔ چائے، بسکٹ، اور چند کرسیوں کا انتظام۔

لوگ آتے، چائے پیتے، باتیں کرتے، اور چلے جاتے۔

ساجد سنتا رہتا۔ سب کی باتیں، سب کے دکھ، سب کے غصے۔

مگر کوئی
اس سے کبھی نہیں پوچھتا تھا:
“تم کیسے ہو؟”

ساجد کے دل میں ایک بات تھی جو برسوں سے کہی نہیں گئی تھی۔

وہ اکیلا تھا۔ گھر میں کوئی نہیں، اور دل میں بہت کچھ۔

ایک دن اس نے محسوس کیا کہ وہ بولتے بولتے اچانک رک جاتا ہے۔ جیسے الفاظ راستہ بھول گئے ہوں۔

وہ ہنستا، مگر آواز کھوکھلی تھی۔

ایک شام اس نے دکان جلدی بند کی۔ کسی نے نہیں پوچھا کیوں۔

وہ پل پر جا کھڑا ہوا۔ نیچے دریا خاموش تھا۔

ساجد نے چیخنا چاہا، مگر آواز گلے میں اٹک گئی۔

اچانک ایک بچہ
اس کے قریب آ کر بولا:
“انکل، آپ ٹھیک ہیں؟
آپ کی آنکھیں بہت اداس ہیں۔”

یہ پہلا سوال تھا جو برسوں میں کسی نے اس سے پوچھا تھا۔

ساجد بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

وہ بولا نہیں، مگر بچہ سمجھ گیا۔

اگلے دن ساجد کی دکان پر ایک اضافی کرسی رکھی تھی۔

ایک تختی لگی تھی: “یہاں بیٹھ کر بات بھی کی جا سکتی ہے۔”

آہستہ آہستہ لوگ رکنے لگے، سننے لگے، اور بولنے بھی۔

ساجد کی آواز
اب بھی دھیمی تھی،
مگر سنائی دینے لگی تھی۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

کبھی کبھی
ایک سادہ سا “کیا حال ہے؟”
کسی کی جان بن جاتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →