ریت پر لکھا نام
صحرا کے کنارے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ ریت، ہوا، اور خاموشی— یہاں کی پہچان تھے۔
اسی قصبے میں یونس رہتا تھا۔ نہ امیر، نہ مشہور، بس ایک عام سا انسان۔
یونس مسافر تھا۔ وہ ایک جگہ ٹھہرتا نہیں تھا۔ کہتا تھا: “میں جہاں رکتا ہوں، وہیں تھوڑا سا نشان چھوڑ جاتا ہوں۔”
لوگ ہنستے تھے۔ “ریت پر نشان؟ ہوا آتی ہے اور سب مٹا دیتی ہے۔”
یونس مسکرا دیتا۔
وہ کبھی کنواں ٹھیک کر دیتا،
کبھی کسی کے بچے کو پڑھا دیتا،
کبھی بیمار اونٹ کی دیکھ بھال کر لیتا۔
کوئی اس کا نام نہیں پوچھتا تھا،
اور وہ خود بھی نہیں بتاتا تھا۔
ایک دن ایک لڑکا اس کے ساتھ چل پڑا۔
نام تھا حمزہ۔
آنکھوں میں سوال،
اور دل میں بے چینی۔
حمزہ نے پوچھا: “تم کیوں نہیں ٹھہرتے؟ کچھ بنا لو، کوئی نام بنا لو۔”
یونس نے ریت پر انگلی سے اپنا نام لکھا۔ ہوا آئی اور نام مٹ گیا۔
یونس بولا: “دیکھا؟ نام رہنا ضروری نہیں، اثر رہنا ضروری ہے۔”
کچھ دن بعد صحرا میں شدید طوفان آیا۔ قصبے کو خطرہ تھا۔
یونس نے لوگوں کو خبردار کیا، راستے دکھائے، اور خود سب سے آخر میں نکلا۔
طوفان تھما تو قصبہ بچ چکا تھا۔
یونس نہیں تھا۔
لوگوں نے بہت تلاش کیا، مگر صرف ریت پر کچھ قدموں کے نشان ملے۔
برسوں بعد حمزہ بڑا ہو گیا۔ اسی قصبے میں استاد بنا۔
وہ بچوں سے کہتا: “کچھ لوگ ریت پر نام لکھتے ہیں، اور کچھ دلوں پر۔”
یونس کا نام کسی کتبے پر نہیں تھا، مگر ہر کہانی میں تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- شہرت عارضی ہوتی ہے، اثر مستقل
- نام مٹ سکتا ہے، نیکی نہیں
- زندگی کا مقصد یاد رکھا جانا نہیں، فائدہ پہنچانا ہے
- خاموش لوگ بھی تاریخ بن جاتے ہیں
دلوں میں جگہ بنا لے،
وہ کبھی نہیں مٹتا۔
— اختتام —