← تمام اردو کہانیاں

پانی پر بنتا گھر

A small wooden house reflected on calm water, early morning mist, soft light, symbolic and dreamy mood

دریا کے کنارے ایک بستی آباد تھی۔ پانی کبھی خاموش، کبھی بے قابو— مگر بستی والوں نے اسی کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔

اسی بستی میں کامل رہتا تھا۔ ایک نوجوان جس کی آنکھوں میں ہمیشہ بڑے خواب رہتے تھے۔

کامل کہتا تھا: “میں ایسا گھر بناؤں گا جو سب سے الگ ہو— ایسا گھر جو پانی پر کھڑا ہو۔”

لوگ ہنستے تھے۔ کہتے: “پانی پر گھر؟ یہ پاگل پن ہے۔”

مگر کامل نے بات دل پر نہیں لی۔

وہ دن بھر محنت کرتا، لکڑیاں جمع کرتا، پرانی کشتیوں کے تختے جوڑتا، اور رات کو نقشے بناتا۔

اس کا باپ اکثر کہتا: “بیٹا، زمین پر گھر بنا، پانی بے وفا ہوتا ہے۔”

کامل جواب دیتا: “ابا، زمین سب کے پاس ہے، میں کچھ مختلف کرنا چاہتا ہوں۔”

مہینوں کی محنت کے بعد ایک چھوٹا سا گھر واقعی پانی پر کھڑا تھا۔ رسیوں سے بندھا، ستونوں پر ٹکا ہوا۔

لوگ دیکھنے آنے لگے۔ کچھ نے تعریف کی، کچھ نے پھر ہنسی اڑائی۔

ایک رات دریا میں طغیانی آ گئی۔ پانی تیز، ہوا سرد، اور اندھیرا گہرا۔

لوگ اپنے گھروں میں دبک گئے۔

کامل کا گھر پانی کے ساتھ ہلنے لگا۔ رسیوں نے کھنچاؤ سہا، لکڑیوں نے آوازیں نکالیں۔

کامل اندر بیٹھا دعا کر رہا تھا، مگر ساتھ ساتھ سمجھ بھی رہا تھا۔

صبح ہوئی تو گھر موجود تھا، مگر ایک طرف جھک چکا تھا۔

کامل نے گھر چھوڑا نہیں۔ اس نے سیکھا۔

اس نے بنیاد مضبوط کی، نئے ستون لگائے، پانی کے مزاج کو سمجھا۔

وقت گزرا۔

اب اس کا گھر پانی کے ساتھ بہتا نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ چلتا تھا۔

لوگ اب ہنستے نہیں تھے۔ کہتے تھے: “یہ گھر نہیں، سبق ہے۔”

کامل مسکرا دیتا۔ وہ جان گیا تھا: خواب وہی ٹھہرتے ہیں جو حقیقت کو سمجھ کر بنائے جائیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جو پانی پر گھر بناتا ہے، وہ پہلے پانی کو سمجھتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →