← تمام اردو کہانیاں

کمرے میں بند ہوا

A small closed room with one open window, curtains moving with wind, soft light, symbolic and emotional mood

زاہد ایک بند کمرے میں رہتا تھا۔ کمرہ کشادہ تھا، فرنیچر اچھا، پردے صاف— مگر ہوا باسی تھی۔

وہ شہر کی ایک معروف کمپنی میں ملازم تھا۔ نوکری محفوظ، آمدن مناسب، اور مستقبل “طے شدہ”۔

لوگ کہتے تھے: “تم خوش قسمت ہو۔”

زاہد سر ہلا دیتا، مگر دل نہیں مانتا تھا۔

ہر صبح وہ اسی کمرے میں جاگتا، جہاں کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی۔ نہ اس لیے کہ ٹوٹ گئی تھی، بلکہ اس لیے کہ “گرد آتی ہے”۔

زاہد کو بچپن سے لکھنے کا شوق تھا۔ کہانیاں، خیال، الفاظ— سب دل میں ابلتے تھے۔

مگر اس نے یہ شوق ایک دراز میں بند کر دیا تھا۔

“بعد میں،” اس نے خود سے کہا تھا۔

ایک رات اسے سانس لینے میں دقت محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر نے کہا: “سب ٹھیک ہے، بس ذہنی دباؤ ہے۔”

زاہد واپس آیا اور اسی کمرے میں بیٹھ گیا۔

اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ کمرہ خاموش نہیں، بھرا ہوا ہے— ادھورے خوابوں سے۔

اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ پردہ ہل رہا تھا، ہوا اندر آنے کی کوشش کر رہی تھی۔

زاہد نے ہاتھ بڑھایا، اور کھڑکی کھول دی۔

تازہ ہوا اندر آئی۔ کاغذات اڑنے لگے۔ میز پر رکھی فائلیں ہل گئیں۔

زاہد نے دراز کھولی۔ پرانا رجسٹر نکالا۔ قلم اٹھایا۔

اس نے لکھنا شروع کیا— بغیر سوچے، بغیر ڈرے۔

رات گزر گئی۔ صبح ہوئی تو کمرہ وہی تھا، مگر زاہد بدل چکا تھا۔

اس نے نوکری نہیں چھوڑی، مگر زندگی میں ایک کھڑکی کھول لی تھی۔

اب وہ جانتا تھا: گھٹن باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جب ہوا کو راستہ مل جائے،
تو انسان بھی جینا سیکھ لیتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →