← تمام اردو کہانیاں

وقت کا ادھورا خط

An old handwritten letter on a wooden table, soft window light, ticking clock nearby, nostalgic and emotional mood

عارف کو خطوط سے عجیب لگاؤ تھا۔
وہ کہتا تھا:
“لفظ جب کاغذ پر اترتے ہیں
تو جھوٹ بولنا مشکل ہو جاتا ہے۔”

وہ شہر کے پرانے حصے میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا۔ مکان کے ساتھ ایک گھڑیال لگا تھا جو ہر گھنٹے اونچی آواز میں وقت کا اعلان کرتا تھا۔

عارف کے والد ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ بچپن میں عارف اکثر خطوط چھانٹنے میں ان کا ہاتھ بٹاتا۔

ایک دن ایک خط آیا
جس پر کوئی پتہ نہیں تھا، بس نام لکھا تھا:
عارف۔

خط کھولا گیا۔

“جب تم یہ خط پڑھو گے،
تو تم وہ نہیں ہو گے
جو یہ خط لکھ رہا ہے۔
یہ وقت کا خط ہے۔”

عارف ہنس پڑا۔
کسی مذاق کا گمان ہوا۔

خط میں اس کی زندگی کے
چھوٹے چھوٹے لمحے درج تھے—
ایک فیصلہ جو اس نے نہیں کیا،
ایک بات جو اس نے نہیں کہی،
ایک شخص جسے اس نے کھو دیا۔

خط کا آخری جملہ تھا: “جو رہ گیا ہے، اسے ضائع نہ کرنا۔”

عارف نے خط رکھ دیا۔ زندگی چلتی رہی۔

سال گزرے۔ گھڑیال کی آواز اور بھاری لگنے لگی۔

ایک شام عارف کو وہ خط پھر ملا۔ کاغذ پر سیاہی مدھم تھی، مگر الفاظ زندہ تھے۔

اس نے محسوس کیا کہ وہی فیصلے جو اس نے ٹالے تھے اب پچھتاوا بن گئے تھے۔

عارف نے قلم اٹھایا اور جواب لکھنا چاہا، مگر پتہ نہیں تھا۔

وہ رات بھر بیٹھا رہا۔ آخرکار اس نے وہ خط جلا دیا۔

راکھ اڑ گئی۔ مگر دل ہلکا ہو گیا۔

اگلے دن عارف نے وہ بات کہہ دی جو برسوں دبی تھی، وہ قدم اٹھا لیا جو ڈر کی وجہ سے رکا تھا۔

گھڑیال کی آواز اب خوفناک نہیں لگتی تھی۔

کیونکہ اس نے وقت کا خط آخرکار پڑھ لیا تھا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جو وقت کے خط پڑھ لیتا ہے،
وہ زندگی کو ادھورا نہیں چھوڑتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →