← تمام اردو کہانیاں

خاموشی کا شور

A quiet empty street at dawn, soft fog, muted colors, feeling of silence and introspection

فراز کو خاموشی سے ڈر لگتا تھا۔
لوگوں کی بھیڑ میں
وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا،
مگر اکیلا ہوتے ہی
اس کا دل بھاری ہو جاتا۔

وہ ریڈیو اسٹیشن پر کام کرتا تھا۔ دن بھر آوازیں، موسیقی، خبریں— ہر وقت شور۔

مگر جب رات کو اسٹوڈیو بند ہو جاتا، تو فراز کے اندر ایک عجیب سی گونج شروع ہو جاتی۔

وہ گونج کسی آواز کی نہیں تھی، بلکہ سوالوں کی تھی۔

“کیا میں خوش ہوں؟”
“کیا یہ زندگی میری ہے؟”

فراز ان سوالوں سے بھاگتا رہا۔
دوستوں میں ہنستا،
کام میں مصروف رہتا،
اور خاموشی کو دشمن سمجھتا۔

ایک دن اسٹیشن میں بجلی چلی گئی۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔

کوئی آواز نہیں،
کوئی اسکرین روشن نہیں۔

فراز کرسی پر بیٹھ گیا۔ پہلی بار اس نے خاموشی کو سنا۔

دل کی دھڑکن، سانس کی آواز، اور یادوں کی آہٹ۔

اسے یاد آیا کہ وہ کبھی شاعر بننا چاہتا تھا، کہ اس نے کتنی باتیں صرف اس لیے نہیں کہیں کہ کوئی سن نہ لے۔

وہ رات اسٹوڈیو میں بیٹھا رہا۔ خاموشی چیختی رہی، اور فراز سنتا رہا۔

اگلے دن اس نے ریڈیو پر ایک نیا پروگرام شروع کیا: “خاموشی کے لمحے”۔

اس میں کوئی موسیقی نہیں ہوتی تھی، صرف چند سچّے جملے اور وقفہ۔

لوگ حیران ہوئے، مگر سننے لگے۔

فراز نے سیکھ لیا تھا: خاموشی دشمن نہیں، آئینہ ہوتی ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

خاموشی کا شور
سننے کی ہمت چاہیے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →