← تمام اردو کہانیاں

وہ دروازہ جو بند نہیں تھا

A dimly lit hallway with an old wooden door slightly open, warm light coming through, symbolic and hopeful mood

سلمان ہمیشہ رک کر چلنے والا انسان تھا۔ وہ فیصلے کرنے سے پہلے سو بار سوچتا، اور پھر بھی قدم آگے نہیں بڑھاتا تھا۔

اس کے کمرے کے آخر میں ایک دروازہ تھا۔ پرانا، خاموش، اور ہمیشہ بند دکھائی دیتا تھا۔

سلمان کو بچپن سے لگتا تھا کہ اس دروازے کے پیچھے کچھ خطرناک ہے۔ کوئی اندھیرا، کوئی نقصان، کوئی ایسی حقیقت جسے وہ برداشت نہیں کر پائے گا۔

اس لیے وہ اس دروازے کے پاس کبھی نہیں گیا۔

زندگی بھی اسی طرح تھی۔ ملازمت ملی، مگر بہتر موقع چھوڑ دیا۔ محبت ہوئی، مگر اظہار نہ کیا۔ خواب آئے، مگر ڈر نے دبا دیے۔

لوگ کہتے تھے: “تم میں صلاحیت ہے، بس ہمت نہیں۔”

سلمان مسکرا دیتا، مگر دل میں وہی دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا۔

ایک رات بجلی چلی گئی۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔

سلمان نے موبائل کی روشنی جلائی اور اچانک اس کی نظر دروازے پر پڑی۔

اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ دروازہ مکمل بند نہیں تھا۔ صرف ٹیک لگا ہوا تھا۔

دل زور سے دھڑکا۔ ہاتھ کانپے۔

کافی دیر وہ وہیں کھڑا رہا۔ پھر آہستہ سے دروازے کو دھکا دیا۔

دروازہ کھل گیا۔

اندر کوئی اندھیرا نہیں تھا۔ ایک سادہ سا کمرہ تھا، جس میں اس کی پرانی ڈائریاں، ادھورے منصوبے، اور وہ خواب رکھے تھے جو اس نے خود چھوڑ دیے تھے۔

سلمان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اسے سمجھ آ گیا کہ خوف باہر نہیں تھا، اندر تھا۔

اگلے دن اس نے زندگی میں چھوٹے چھوٹے دروازے کھولنے شروع کیے۔ ایک بات کہی، ایک موقع قبول کیا، ایک خواب پر کام شروع کیا۔

وہ دروازہ اب بھی وہیں ہے، مگر سلمان جانتا ہے: کچھ دروازے صرف ہمت کے منتظر ہوتے ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جو دروازہ بند نظر آئے،
ضروری نہیں وہ بند ہو۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →