← تمام اردو کہانیاں

چراغ جو خود جل گیا

A single oil lamp glowing in a dark room, warm light spreading softly, deep shadows, symbolic and emotional mood

گاؤں کے آخری کنارے
ایک پرانا سا مکان تھا۔
دیواریں مٹی کی،
چھت لکڑی کی،
اور دروازہ ہمیشہ آدھا کھلا۔

اسی مکان میں سلیم رہتا تھا۔

سلیم کوئی عالم نہیں تھا،
نہ کوئی بڑا آدمی—
بس ایک معمولی سا انسان
جس کے ہاتھوں میں
ہمیشہ کام رہتا تھا۔

وہ شام ہوتے ہی اپنے دروازے پر ایک چراغ جلا دیتا۔

گاؤں میں بجلی اکثر چلی جاتی تھی۔ اندھیرا جلد پھیلتا، راستے گم ہو جاتے۔

لوگ جانتے تھے: “سلیم کا چراغ ہمیں گھر تک پہنچا دے گا۔”

سلیم کا اپنا کمرہ اکثر اندھیرے میں رہتا تھا، مگر دروازے کے باہر چراغ ہمیشہ روشن ہوتا۔

ایک دن کسی نے اس سے پوچھا: “تم اپنا کمرہ کیوں اندھیرے میں رکھتے ہو؟”

سلیم مسکرایا: “میری آنکھیں عادی ہو گئی ہیں، مگر راستہ بھٹکے ہوئے اندھیرے کے عادی نہیں ہوتے۔”

وقت گزرتا گیا۔

سلیم بیمار رہنے لگا۔ ہاتھ کانپتے، سانس بھاری۔

لوگوں نے کہا: “اب چراغ مت جلایا کرو، اپنا خیال رکھو۔”

سلیم نے چراغ پھر بھی جلایا۔

ایک رات بارش تیز تھی، ہوا سرد، اور راستے خطرناک۔

ایک بچہ گاؤں کے باہر بھٹک گیا۔

لوگ نکلے، مگر اندھیرے نے ہمت توڑ دی۔

اسی وقت سلیم کے گھر کا چراغ بارش میں بھی جل رہا تھا۔

بچے نے وہ روشنی دیکھی اور چلتا چلتا اسی دروازے تک پہنچ گیا۔

اگلی صبح چراغ بجھا ہوا تھا۔

سلیم خاموشی سے اس دنیا سے جا چکا تھا۔

مگر اس کے بعد گاؤں والوں نے ہر شام اپنے دروازوں پر چراغ جلانا شروع کر دیے۔

اندھیرا اب بھی آتا ہے، مگر اکیلا نہیں رہتا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

کچھ چراغ
بجھ کر بھی
ہمیشہ جلتے رہتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →