وہ دن جو نہیں آیا
کامران کا پسندیدہ لفظ تھا: “کل۔”
کل میں وہ سب کچھ سما جاتا تھا جو آج مشکل لگتا تھا۔ کل وہ بات کہے گا، کل وہ قدم اٹھائے گا، کل وہ زندگی جئے گا۔
آج صرف گزارنے کے لیے تھا۔
کامران ایک عام سا آدمی تھا۔ نہ بہت ناکام، نہ بہت کامیاب— بس درمیان میں کہیں۔
اس کی میز پر ایک کیلنڈر رکھا رہتا تھا۔ ہر دن ایک لکیر سے کاٹ دیا جاتا۔
شروع میں ہر دن خاص لگتا تھا۔ نیا مہینہ، نئی امید۔
پھر دن صرف نمبر بن گئے۔
کامران کو ہمیشہ کچھ کرنا ہوتا تھا: کتاب لکھنی تھی، ماں کو وقت دینا تھا، اپنے دل کی بات کسی کو کہنی تھی۔
مگر ہر بار وہی جملہ: “ایک دن…”
ایک دن اس کی ماں بیمار پڑی۔ کامران نے سوچا: “کل ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گا، آج بہت تھکا ہوں۔”
کل آیا، مگر دیر ہو چکی تھی۔
ماں تو بچ گئی، مگر کامران کے اندر کچھ مر گیا۔
کیلنڈر اب اسے چبھنے لگا۔
ایک شام وہ اپنی الماری صاف کر رہا تھا کہ ایک پرانی ڈائری ملی۔
اس میں اس کے خواب لکھے تھے— دس سال پرانے۔
ہر خواب کے آگے ایک تاریخ تھی۔ سب گزر چکی تھیں۔
کامران دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
اس نے کیلنڈر دیکھا، آج کی تاریخ پر کوئی لکیر نہیں کھینچی۔
پہلی بار اس نے کہا: “آج۔”
اسی دن اس نے اپنی ماں کا ہاتھ تھاما، اسی دن اس نے پہلا صفحہ لکھا، اسی دن اس نے وہ بات کہی جو برسوں دل میں تھی۔
زندگی اچانک آسان نہیں ہو گئی،
مگر سچی ہو گئی۔
کیلنڈر اب بھی ہے،
مگر ایک فرق کے ساتھ:
ہر دن
زندگی کی قیمت رکھتا ہے۔
کیونکہ وہ دن جو نہیں آیا تھا، آخرکار آج بن گیا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- “کل” اکثر ایک دھوکا ہوتا ہے
- وقت کا ضیاع خاموشی سے زندگی کھا جاتا ہے
- چھوٹے فیصلے بڑی قیمت رکھتے ہیں
- جو آج کو اپنا لے، وہ کل سے نہیں ڈرتا
آج کے لیے دی جاتی ہے۔
— اختتام —