وہ سوال جو کسی نے نہیں پوچھا
حارث ایک کامیاب آدمی تھا۔ اچھی نوکری، معاشرے میں عزت، صاف ستھرا گھر، اور مصروف دن۔
لوگ اس سے مل کر کہتے: “تم نے زندگی بنا لی ہے۔”
حارث مسکرا دیتا۔ وہ جواب دینا جانتا تھا— ہر سوال کا۔
“کیریئر کیسا ہے؟” “بہترین۔”
“گھر میں سب ٹھیک؟” “بالکل۔”
“مستقبل کا کیا پلان ہے؟” “سوچا ہوا ہے۔”
مگر ایک سوال
کسی نے کبھی نہیں پوچھا تھا:
“کیا تم واقعی خوش ہو؟”
اور حارث نے خود سے بھی یہ سوال نہیں کیا تھا۔
اس کی زندگی ایک درست ترتیب میں چل رہی تھی— دفتر، میٹنگ، واپسی، نیند۔
ہر دن پچھلے دن جیسا۔
ایک شام دفتر سے واپسی پر وہ ایک سگنل پر رکا۔
وہاں ایک بوڑھا شخص فٹ پاتھ پر بیٹھا جوتے مرمت کر رہا تھا۔
حارث نے یونہی پوچھ لیا: “بابا، سارا دن یہاں بیٹھے رہتے ہو، تھکتے نہیں؟”
بوڑھے نے سر اٹھایا، مسکرایا اور کہا: “بیٹا، تھکن کام سے نہیں، بے مقصد جینے سے ہوتی ہے۔”
یہ جملہ حارث کے اندر کہیں رک گیا۔
گھر آ کر وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔
اُس رات وہ سو نہ سکا۔
پہلی بار اس نے خود سے وہ سوال پوچھ لیا جو کسی نے نہیں پوچھا تھا۔
“میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟”
“یہ زندگی میری ہے یا بس چل رہی ہے؟”
اگلے دن دفتر میں ہر چیز وہی تھی، مگر حارث بدلا ہوا تھا۔
اب اسے میٹنگز میں اپنی آواز کھوکھلی لگتی تھی۔ فائلیں بھاری محسوس ہوتی تھیں۔
وہ آہستہ آہستہ
لوگوں کو سننے لگا۔
دفتر کے چپڑاسی کی بات،
گارڈ کی پریشانی،
ایک ساتھی کا دباؤ۔
اسے احساس ہوا کہ وہ برسوں صرف بولتا رہا تھا، سنا نہیں تھا۔
ایک دن اس نے اپنی چھٹی کے دن اسی بوڑھے موچی کو دوبارہ تلاش کیا۔
اس کے ساتھ بیٹھا، باتیں کیں، خاموشی کو سنا۔
اس دن حارث نے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا، نوکری نہیں چھوڑی، شہر نہیں بدلا۔
مگر اس نے اپنی سمت بدل لی۔
اب وہ ہر دن کے آخر میں خود سے ایک سوال پوچھتا تھا: “آج میں نے صرف وقت گزارا یا زندگی جیا؟”
یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا تھا، مگر اسی نے حارث کو انسان بنا دیا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- کامیابی ہمیشہ خوشی نہیں ہوتی
- اصل سوال وہ ہوتے ہیں جو ہم خود سے نہیں پوچھتے
- مقصد کے بغیر زندگی صرف ایک معمول بن جاتی ہے
- خود احتسابی انسان کو اندر سے بدل دیتی ہے
وہی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔
— اختتام —