وزن جو دکھائی نہیں دیتا
نعمان لوگوں کو سامان اٹھاتے دیکھ کر ہمیشہ حیران ہوتا تھا۔ بھاری بوریاں، لوہے کے ڈبے، اینٹوں کے گٹھے— سب تولے جا سکتے تھے۔
مگر وہ خود ہر روز ایک ایسا وزن اٹھاتا تھا جس کا کوئی ترازو نہیں تھا۔
نعمان شہر کے اسپتال میں کمپاؤنڈر تھا۔ کام زیادہ، تنخواہ کم، اور فیصلے اکثر مشکل۔
ایک رات ایمرجنسی میں ایک بوڑھا آدمی لایا گیا۔ سانس اکھڑی ہوئی، آنکھوں میں خوف۔
ڈاکٹر راستے میں تھا۔ نعمان کے سامنے دو انجیکشن رکھے تھے— ایک درست، ایک غلط۔
وہ لمحہ صرف چند سیکنڈ کا تھا، مگر نعمان کے لیے عمر جتنا بھاری۔
اس نے درست انجیکشن لگایا۔ بوڑھے کی سانس بحال ہو گئی۔
سب نے سکھ کا سانس لیا۔ نعمان نے بھی۔
مگر اس رات کے بعد اس کا وزن بڑھ گیا۔
کوئی حادثہ نہیں ہوا تھا، مگر احساس ہو گیا تھا کہ ایک لمحے کی غلطی کسی کی پوری زندگی چھین سکتی ہے۔
نعمان ہنستا رہا، کام کرتا رہا، مگر دل میں ایک مستقل بوجھ بس گیا۔
وہ اب ہر کام سوچ سمجھ کر کرتا، ہر فیصلہ ضمیر سے پوچھ کر۔
لوگ کہتے تھے: “تم بہت سنجیدہ ہو گئے ہو۔”
نعمان جواب دیتا: “میں نے وزن ناپ لیا ہے۔”
ایک دن وہی بوڑھا اپنے پوتے کا ہاتھ تھامے اسپتال آیا۔
بوڑھے نے نعمان کو پہچان لیا۔ بس اتنا کہا: “بیٹا، تم نے مجھے زندگی دی ہے۔”
اس دن نعمان کے کندھے ہلکے ہو گئے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اصل بوجھ ذمہ داری کا ہوتا ہے
- ضمیر جاگ جائے تو انسان بدل جاتا ہے
- ہر فیصلہ کسی نہ کسی زندگی سے جڑا ہوتا ہے
- صحیح کام کا وزن آخرکار ہلکا ہو جاتا ہے
وہ انسان بن جاتا ہے۔
— اختتام —