خاموش چراغ
گاؤں کے کنارے ایک پرانا سا مکان تھا، جس کی دیواروں پر وقت نے اپنی لکیریں کھینچ رکھی تھیں۔ اسی مکان میں سلیم رہتا تھا۔ سلیم کوئی خاص آدمی نہیں تھا، نہ اس کے پاس دولت تھی، نہ اثر و رسوخ، نہ ہی کوئی بڑا خواب جس کے بارے میں لوگ باتیں کرتے۔
سلیم بس ایک عام سا انسان تھا، جو روز صبح سورج نکلنے سے پہلے جاگتا، اپنی پرانی سائیکل پر بیٹھتا اور قریبی شہر میں ایک چھوٹی سی دکان پر مزدوری کرنے چلا جاتا۔
لوگ اسے دیکھ کر کہتے
“یہ لڑکا زندگی میں کچھ نہیں کر پائے گا۔”
سلیم یہ باتیں سنتا ضرور تھا، مگر جواب نہیں دیتا تھا۔
اس کے اندر ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ جانتا ہو کہ شور مچانے سے روشنی پیدا نہیں ہوتی۔
سلیم کے والد کا انتقال اس وقت ہوا تھا جب وہ صرف بارہ سال کا تھا۔ ماں نے گھروں میں کام کر کے اسے پڑھایا، مگر غربت نے اسے تعلیم مکمل کرنے نہیں دی۔ ایک دن ماں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا تھا:
“بیٹا، اب کتابیں رکھ دو… روٹی زیادہ ضروری ہے۔”
سلیم نے اس دن کچھ نہیں کہا، بس اپنی کتابوں کو آہستہ سے صندوق میں رکھا، جیسے کسی اپنے کو دفن کر رہا ہو۔
وقت گزرتا گیا۔ ماں بھی بیماری کے ہاتھوں دنیا سے چلی گئی۔ اب سلیم بالکل اکیلا رہ گیا تھا۔ گاؤں کے لوگ اس پر ترس کھاتے، مگر کوئی اس کے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔
رات کو جب وہ اپنے کمرے میں بیٹھتا تو ایک چھوٹا سا تیل کا چراغ جلاتا۔ وہ چراغ اس کی زندگی کی واحد روشنی تھا۔ بجلی اکثر چلی جاتی تھی، مگر چراغ جلتا رہتا۔
ایک رات سلیم نے خود سے کہا:
“اگر یہ چراغ اندھیرے میں جل سکتا ہے، تو میں کیوں نہیں؟”
اگلے دن اس نے ایک فیصلہ کیا۔
وہ دن بھر مزدوری کرتا، اور رات کو خود پڑھتا۔ پرانی کتابیں، اخبارات، ٹوٹی ہوئی کاپیاں—جو ملتا، پڑھتا۔ تھکن سے آنکھیں جل جاتیں، مگر چراغ بجھنے نہیں دیتا۔
لوگ ہنستے تھے:
“اب کیا بنے گا؟ عمر نکل گئی!”
مگر سلیم جانتا تھا کہ اصل جنگ وقت سے نہیں، ہمت سے ہوتی ہے۔
کئی سال گزر گئے۔ ایک دن شہر میں ایک چھوٹے اسکول کو ایسے شخص کی ضرورت پڑی جو بچوں کو پڑھا سکے۔ تنخواہ کم تھی، مگر سلیم کے لیے یہ کسی خزانے سے کم نہ تھی۔
جب وہ پہلی بار بچوں کے سامنے کھڑا ہوا، تو اس کی آواز ہلکی سی کانپ رہی تھی۔ مگر پھر اس نے چراغ کو یاد کیا—وہی خاموش، مستقل روشنی۔
وقت کے ساتھ سلیم ایک بہترین استاد بن گیا۔ بچے اس سے صرف کتابیں نہیں، زندگی سیکھتے تھے۔ وہ انہیں بتاتا:
“روشنی بننے کے لیے جلنا پڑتا ہے، مگر خاموشی کے ساتھ۔”
ایک دن گاؤں کے وہی لوگ، جو کبھی اس پر ہنستے تھے، اپنے بچوں کو اس کے پاس چھوڑنے لگے۔
سلیم اب بھی اسی پرانے مکان میں رہتا تھا۔ اسی چراغ کے ساتھ۔
فرق صرف یہ تھا کہ اب وہ چراغ صرف اس کے کمرے کو نہیں، کئی زندگیوں کو روشن کر رہا تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اصل کامیابی شور نہیں مچاتی
- حالات چاہے جیسے بھی ہوں، مستقل مزاجی انسان کو آگے لے جاتی ہے
- جو لوگ خاموشی سے محنت کرتے ہیں، ان کی روشنی دیر سے مگر دور تک جاتی ہے
— اختتام —