اللہ دیکھ رہا ہے
فجر کی اذان ابھی مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ حمزہ کی آنکھ کھل گئی۔ وہ خاموشی سے بستر سے اٹھا، وضو کیا اور چھوٹے سے کمرے میں نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس کمرے میں نہ کوئی خاص چیز تھی، بس ایک جائے نماز، ایک قرآنِ پاک، اور ایک دل جو ہر وقت اللہ سے ڈرتا تھا۔
حمزہ شہر کے ایک بڑے بازار میں کپڑے کی دکان پر کام کرتا تھا۔ تنخواہ معمولی تھی، مگر وہ ہمیشہ خوش رہتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حلال کمائی میں برکت ہوتی ہے۔
اس دن بازار غیر معمولی طور پر رش سے بھرا ہوا تھا۔ عید قریب تھی، لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ دکان دار، حاجی صاحب، حساب کتاب میں الجھے ہوئے تھے اور حمزہ کو کیش کاؤنٹر پر بٹھا دیا گیا تھا۔
ایک گاہک آیا، اس نے کپڑے خریدے اور جلدی میں پیسے رکھ کر چلا گیا۔
حمزہ نے پیسے گنے تو چونک گیا۔
رقم زیادہ تھی… خاصی زیادہ۔
اس نے فوراً آواز دی، مگر گاہک ہجوم میں گم ہو چکا تھا۔
اس کے ہاتھ میں پیسے تھے، اور دل میں ایک عجیب سی کشمکش۔
ایک آواز کہتی:
“کوئی نہیں دیکھ رہا، رکھ لو۔ تمہیں بھی ضرورت ہے۔”
دوسری آواز خاموش مگر مضبوط تھی: “اللہ دیکھ رہا ہے۔”
حمزہ نے پسینہ صاف کیا۔
دل میں خیال آیا:
“امی کی دوا لینی ہے… کرایہ دینا ہے… زندگی آسان ہو جائے گی۔”
پھر اسے ماں کی بات یاد آئی جو بچپن میں کہا کرتی تھیں:
“بیٹا، اگر ساری دنیا نہ دیکھے، تو بھی اللہ ضرور دیکھتا ہے۔”
حمزہ نے آنکھیں بند کیں، دل ہی دل میں کہا:
“یا اللہ، میں کمزور ہوں، مگر تیرا خوف مجھے مضبوط بنا دے۔”
شام تک وہ رقم اس نے الگ رکھ دی۔ حاجی صاحب نے پوچھا تو اس نے سارا واقعہ سچ سچ بتا دیا۔
حاجی صاحب خاموش ہو گئے۔ پھر مسکرائے اور بولے:
“بیٹا، تم نے آج ثابت کر دیا کہ تم امانت دار ہو۔”
اگلے دن وہی گاہک واپس آیا۔ پریشان تھا، کہنے لگا:
“میں نے غلطی سے زیادہ پیسے دے دیے تھے، رات بھر سو نہ سکا۔”
جب حمزہ نے رقم واپس کی، تو اس شخص کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ بولا:
“آج ایمان پر یقین تازہ ہو گیا۔”
چند دن بعد حاجی صاحب نے حمزہ کو بلا کر کہا:
“میں دکان تمہارے حوالے کر رہا ہوں۔ کیونکہ کاروبار دیانت سے چلتا ہے، چالاکی سے نہیں۔”
حمزہ نے سر جھکا لیا۔
وہ جانتا تھا کہ یہ انعام کسی انسان کا نہیں، بلکہ اللہ کا تھا۔
اس رات وہ سجدے میں دیر تک رویا اور بس ایک جملہ بار بار دہراتا رہا:
“یا اللہ، تو واقعی دیکھ رہا تھا۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- اصل امتحان تنہائی میں ہوتا ہے
- حلال اور حرام کے درمیان فرق ایمان بتاتا ہے
- جو اللہ کے لیے چھوڑتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر عطا کرتا ہے
- دیانت داری صرف اخلاق نہیں، عبادت ہے
— اختتام —