← تمام اردو کہانیاں

ماں کی دعا

An elderly mother sitting by a window while her son gently holds her hands, warm light

عصر کا وقت تھا۔ سورج کی روشنی آہستہ آہستہ ماند پڑ رہی تھی۔ احمد دفتر سے واپس آیا تو اس کے چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ جوتے اتارتے ہوئے اس نے ہلکی سی آواز میں کہا:

“امی… میں آ گیا ہوں۔”

اندر سے کمزور سی آواز آئی:
“بیٹا، ذرا پانی دے دو۔”

احمد نے لمحہ بھر کو گھڑی دیکھی۔ موبائل پر ایک ضروری میسج آ رہا تھا، مگر اس نے موبائل میز پر رکھا اور فوراً پانی لے آیا۔ ماں نے کانپتے ہاتھوں سے گلاس پکڑا اور مسکرا کر کہا:

“اللہ تمہیں خوش رکھے، بیٹا۔”

یہ دعا احمد اکثر سنتا تھا، مگر اس دن نہ جانے کیوں دل میں اتر گئی۔

احمد کے والد کئی سال پہلے وفات پا چکے تھے۔ ماں اکیلی تھی، بیمار بھی، مگر زبان پر کبھی شکوہ نہیں لاتی تھی۔ احمد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ماں کے ساتھ گزارا تھا، مگر شہر کی مصروف زندگی نے اسے اندر سے تھکا دیا تھا۔

کبھی کبھی وہ دل ہی دل میں سوچتا:
“میری عمر بھی گزر رہی ہے… میرے خواب کب پورے ہوں گے؟”

ایک رات احمد دیر سے گھر آیا۔ ماں جاگ رہی تھی۔
اس نے نرمی سے کہا:
“بیٹا، کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا۔”

احمد کے لہجے میں بے خیالی آ گئی:
“امی، میں بہت تھکا ہوا ہوں، بعد میں کھا لوں گا۔”

ماں خاموش ہو گئی۔ بس ایک گہری سانس لی۔

وہ رات احمد کے لیے عجیب تھی۔ نیند نہیں آ رہی تھی۔ ماں کا خاموش چہرہ بار بار آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ اچانک اسے بچپن یاد آیا—جب وہ بیمار ہوتا تو ماں پوری رات جاگتی تھی۔

اگلی صبح وہ فجر سے پہلے اٹھا۔ ماں سو رہی تھی۔ اس نے کمبل درست کیا، دوا رکھی، اور دل ہی دل میں کہا:

“امی، میں نے آپ کو کبھی کہا نہیں، مگر آپ میری سب سے بڑی نعمت ہیں۔”

چند دن بعد احمد کو نوکری میں ترقی کی خبر ملی۔ تنخواہ بڑھ گئی، حالات بہتر ہونے لگے۔ وہ خوش تھا، مگر اصل خوشی اس وقت ہوئی جب ماں نے ہاتھ اٹھا کر کہا:

“یا اللہ، میرے بیٹے کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب کر دے۔”

کچھ مہینے بعد ماں کا انتقال ہو گیا۔ احمد کے لیے دنیا جیسے رک گئی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس کے دل میں سکون تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے ماں کی خدمت میں کوتاہی نہیں کی تھی۔

ہر مشکل میں اسے راستے کھلتے نظر آئے۔ ہر دعا قبول ہوتی محسوس ہوئی۔
وہ جانتا تھا—یہ سب ماں کی دعا کا اثر تھا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ماں کی دعا وہ خزانہ ہے جو بغیر آواز کے قسمت بدل دیتا ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →