واپسی کا راستہ
عشاء کی اذان ختم ہو چکی تھی، مگر مسجد تقریباً خالی تھی۔ ایک کونے میں فہد بیٹھا ہوا تھا۔ سر جھکا ہوا، آنکھوں میں نمی، اور دل میں ایک بوجھ جو برسوں سے جمع ہو رہا تھا۔
وہ کبھی ایسا نہیں تھا۔ بچپن میں وہ بھی باقاعدہ نماز پڑھتا، قرآن سیکھتا، اور اللہ سے ڈرنے والا لڑکا تھا۔ مگر وقت، صحبت اور نفس نے آہستہ آہستہ اسے بدل دیا۔
شروع میں چھوٹے گناہ تھے۔
“بس ایک بار…”
“کوئی نہیں دیکھ رہا…”
پھر وہی گناہ عادت بن گئے۔
ہر رات وہ سوتے وقت سوچتا:
“کل بدل جاؤں گا۔”
مگر کل کبھی نہیں آتا تھا۔
فہد کی کامیابی سب کو نظر آتی تھی، مگر اندر سے وہ ٹوٹا ہوا تھا۔ ہنستا ضرور تھا، مگر تنہائی میں خود سے نظریں نہیں ملا پاتا تھا۔
ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا بچپن کا دوست سعد انتقال کر گیا ہے۔ سعد وہی تھا جو ہمیشہ اسے نماز کی یاد دہانی کرواتا تھا۔
جنازے میں کھڑا فہد کانپ رہا تھا۔
قبر پر مٹی پڑتے دیکھ کر اس کے دل میں ایک سوال گونجا:
“اگر آج میں یہاں ہوتا تو؟”
اسی رات وہ مسجد آ گیا۔
کافی عرصے بعد۔
سجدے میں جاتے ہی اس کا ضبط ٹوٹ گیا۔
آنسو زمین پر گرنے لگے۔
وہ ہچکیوں کے ساتھ بولا:
“یا اللہ… میں بہت گناہ گار ہوں۔
میں نے خود کو بھی دھوکا دیا، تجھے بھی بھلایا۔
مگر تیرے در کے سوا کوئی اور در نہیں۔”
اسے یاد آیا کہ قرآن میں پڑھا تھا:
“اللہ اپنی رحمت سے مایوس ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
اس نے فیصلہ کر لیا۔
نہ صرف گناہ چھوڑنے کا، بلکہ راستہ بدلنے کا۔
توبہ آسان نہیں تھی۔ نفس بار بار کھینچتا تھا، مگر اب ضمیر جاگ چکا تھا۔
وہ نماز کی طرف لوٹا۔
غلط صحبت چھوڑ دی۔
ہر بار گر کر پھر اٹھا۔
مہینوں بعد اس کے چہرے پر سکون لوٹ آیا۔
لوگ حیران تھے، مگر وہ جانتا تھا—یہ سکون معافی کا تھا۔
ایک دن اس نے خود سے کہا:
“گناہ میں مزہ تھا، مگر توبہ میں زندگی ہے۔”
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- گناہ چاہے کتنا ہی بڑا ہو، اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے
- ندامت توبہ کی پہلی سیڑھی ہے
- سچی توبہ صرف الفاظ نہیں، عمل مانگتی ہے
- اللہ کے دروازے آخری سانس تک کھلے رہتے ہیں
— اختتام —