← تمام اردو کہانیاں

لکھا ہوا اور مانگا ہوا

A man praying with raised hands under a cloudy sky with a ray of light breaking through

بارش مسلسل برس رہی تھی۔ آسمان جیسے زمین سے باتیں کر رہا ہو۔ یوسف کھڑکی کے پاس کھڑا بارش کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا:

“اگر سب کچھ پہلے ہی لکھا جا چکا ہے تو دعا کا کیا فائدہ؟”

یوسف محنتی تھا، مگر زندگی میں کامیابی اس سے ہمیشہ ایک قدم آگے رہتی تھی۔ نوکریاں آئیں، مگر برقرار نہ رہ سکیں۔ رشتے آئے، مگر بات آگے نہ بڑھ سکی۔ ہر ناکامی کے بعد وہ یہی کہتا:

“شاید یہی میری تقدیر ہے۔”

اس کے والد ایک سادہ دل انسان تھے۔ اکثر فجر کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے۔ یوسف کبھی کبھار مسکرا کر کہتا:

“ابو، جو لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا۔”

ابو نرمی سے جواب دیتے:
“بیٹا، دعا بھی تقدیر کا حصہ ہے۔”

ایک دن یوسف کی نوکری اچانک ختم ہو گئی۔ گھر کا خرچ مشکل ہو گیا۔ اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔ دل بھاری تھا، زبان خاموش۔

فجر کے وقت وہ مسجد چلا گیا۔ خالی صفوں میں کھڑا ہو کر اس نے زندگی میں پہلی بار دل سے دعا مانگی۔ الفاظ ٹوٹے ہوئے تھے، مگر نیت سچی تھی:

“یا اللہ، اگر میرے لیے آسانی لکھی ہے تو دے دے، اور اگر مشکل ہے تو اس میں صبر عطا کر دے۔”

یہ کوئی مخصوص دعا نہیں تھی، بس دل کی آواز تھی۔

چند دن بعد ایک پرانا دوست ملا۔ باتوں باتوں میں اس نے یوسف کو ایک نوکری کا بتایا۔ یوسف نے درخواست دی، انٹرویو ہوا، اور وہ منتخب ہو گیا۔

یہ نوکری آسان نہیں تھی، مگر پائیدار تھی۔
یوسف نے سجدے میں جا کر شکر ادا کیا۔

وقت کے ساتھ اس نے سیکھ لیا کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے تعلق کا نام ہے۔ بعض دعائیں فوراً قبول ہو جاتی ہیں، اور بعض ہمیں بہتر انسان بنانے کے لیے مؤخر کی جاتی ہیں۔

ایک دن اس نے ابو سے کہا:
“ابو، شاید سب کچھ لکھا ہوتا ہے… مگر دعا قلم کو ہلا دیتی ہے۔”

ابو مسکرا دیے۔
بارش کی طرح۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

لکھا ہوا اور مانگا ہوا — دونوں اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →