← تمام اردو کہانیاں

واپسی سے پہلے

An empty mosque at night with soft light and prayer mats, calm spiritual atmosphere

مغرب کے بعد کا وقت تھا۔ قبرستان میں عجیب سی خاموشی تھی۔ صرف ہوا کے ہلکے جھونکے اور درختوں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ زاہد آہستہ آہستہ چل رہا تھا، جیسے ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھ رہا ہو۔

وہ یہاں کسی مجبوری سے آیا تھا۔ ایک جاننے والے کا جنازہ تھا۔
وہی جاننے والا جس کے ساتھ کبھی قہقہے لگائے گئے تھے، مستقبل کے منصوبے بنائے گئے تھے۔

اب وہ سب مٹی کے نیچے تھا۔

زاہد دنیا میں کامیاب سمجھا جاتا تھا۔ اچھی نوکری، بڑا گھر، عزت۔ مگر آج قبرستان میں کھڑا ہو کر اسے لگا کہ یہ سب کتنا عارضی ہے۔

ایک قبر پر نظر ٹھہر گئی۔
نام لکھا تھا، تاریخ پیدائش، اور تاریخ وفات۔

درمیان میں ایک لکیر۔

زاہد دیر تک اس لکیر کو دیکھتا رہا۔
پھر خود سے کہا:
“یہ لکیر ہی تو پوری زندگی ہے۔”

واپسی پر وہ خاموش رہا۔ موبائل بند رکھا۔
گھر پہنچ کر اس نے قرآن کھولا، جو مہینوں سے بند پڑا تھا۔

آیات دل میں اترتی چلی گئیں۔
ایسا لگا جیسے اللہ خود بات کر رہا ہو۔

اس رات وہ سو نہ سکا۔
سوچتا رہا:
“اگر آج میری باری آ جائے تو میں کیا لے کر جاؤں گا؟”

اگلے دن اس نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔
وہی دن تھا جب اس نے فجر کی نماز دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھی۔ پھر آہستہ آہستہ اپنی زندگی سادہ کرتا گیا۔

حرام سے بچنے لگا۔
لوگوں کے حقوق ادا کرنے لگا۔
معافی مانگنے میں شرمندگی محسوس نہ کی۔

ایک دن اس نے کہا:
“میں دنیا چھوڑ نہیں رہا، بس آخرت کو ساتھ لے کر چل رہا ہوں۔”

مہینوں بعد اس کے چہرے پر سکون نمایاں تھا۔
وہ جانتا تھا کہ انجام کا علم کسی کو نہیں، مگر تیاری سب کے لیے ضروری ہے۔

ایک رات اس نے دعا کی:
“یا اللہ، مجھے اس دن شرمندہ نہ کرنا جب کوئی پردہ باقی نہ رہے۔”


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

واپسی سے پہلے — یہی وہ وقت ہے جس میں ہم اپنی اصل کامیابی لکھ سکتے ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →