← تمام اردو کہانیاں

بند دروازوں کے درمیان

An old family house with lights on in separate rooms at night, symbolizing emotional distance

یہ گھر کبھی قہقہوں سے گونجتا تھا۔
کھانے کی میز پر باتیں ختم نہیں ہوتیں تھیں، اور شام ڈھلے سب ایک دوسرے کی باتوں میں شریک ہوتے تھے۔

مگر اب…
دروازے بند تھے۔
دل بھی۔

اکرم صاحب اس گھر کے سربراہ تھے۔ ایک وقت تھا جب وہ بچوں کے لیے ہیرو تھے، مگر وقت کے ساتھ وہ صرف "والد" رہ گئے — وہ بھی ایک خاموش والد۔

بیٹا، حمزہ، ایک کامیاب سافٹ ویئر انجینئر تھا۔ کمرہ الگ، زندگی الگ، اور سوچ الگ۔
بیٹی، مریم، اپنی شادی شدہ زندگی میں اتنی مصروف تھی کہ ماں باپ کی آواز بھی اب صرف ایک رسمی کال بن چکی تھی۔

اکرم صاحب کی بیوی، ساجدہ، گھر میں سب سے زیادہ موجود مگر سب سے زیادہ نظر انداز تھی۔
وہ سب کے لیے کھانا بناتی، مگر اب کوئی ساتھ بیٹھ کر کھاتا نہیں تھا۔

ایک دن اکرم صاحب کی طبیعت خراب ہوئی۔
بلڈ پریشر بڑھ گیا، سینے میں درد تھا۔
وہ صوفے پر بیٹھے رہے، مگر کسی نے نوٹس نہیں لیا۔

حمزہ ہیڈفون لگائے اپنے کمرے میں تھا۔
ساجدہ نے دو بار آواز دی، مگر اس نے سننے کی زحمت نہ کی۔

آخرکار اکرم صاحب خود ہی ہسپتال پہنچے۔

وہاں ڈاکٹر نے کہا:
"آپ کو صرف دوائی نہیں، اپنوں کی ضرورت ہے۔"

یہ جملہ اکرم صاحب کے دل میں تیر کی طرح لگا۔

گھر واپس آ کر انہوں نے پہلی بار کھانے کی میز پر سب کو جمع کرنے کی کوشش کی۔
حمزہ نے کہا:
"ابو، میں مصروف ہوں۔"

ساجدہ خاموش رہی۔
خاموشی میں آنسو شامل تھے۔

چند دن بعد اکرم صاحب نے ایک خط لکھا۔
کوئی الزام نہیں، کوئی شکوہ نہیں۔
بس یادیں۔

"یہ گھر اینٹوں سے نہیں، لمحوں سے بنا تھا۔
اگر ہم لمحے نہ بانٹیں، تو دیواریں بھی بوجھ بن جاتی ہیں۔"

خط پڑھ کر حمزہ پہلی بار رکا۔
موبائل رکھا۔
اور ماں کو غور سے دیکھا۔

اسے احساس ہوا کہ وہ جس کامیابی کے پیچھے بھاگ رہا تھا، وہ اسے اپنوں سے دور لے جا رہی تھی۔

اس رات کھانے کی میز پر سب موجود تھے۔
باتیں کم تھیں، احساس زیادہ۔

دروازے بند تھے، مگر دل…
آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

بند دروازوں کے درمیان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر آج ہم نے رشتوں کی پرواہ نہ کی، تو کل ہمارے پاس صرف دیواریں رہ جائیں گی۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →