آدھا گھر، پورا بچپن
عمر کو ٹھیک سے یاد نہیں تھا کہ اس کے والدین نے کب آخری بار ایک دوسرے سے مسکرا کر بات کی تھی۔
مگر اسے یہ اچھی طرح یاد تھا کہ گھر میں آوازیں کب بدل گئیں۔
وہ آوازیں جو کبھی ہنسی ہوتی تھیں، اب بحث بن گئی تھیں۔
وہ نظریں جو کبھی محبت سے بھری ہوتیں، اب شکایت سے خالی نہیں ہوتیں۔
عمر آٹھ سال کا تھا۔
اس عمر میں بچے سوال کرتے ہیں، مگر عمر نے سوال کرنا چھوڑ دیا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ جواب دردناک ہوں گے۔
ایک دن ماں نے کہا:
"بیٹا، ابو کچھ دنوں کے لیے یہاں نہیں رہیں گے۔"
عمر نے پوچھا نہیں "کیوں؟"
اس نے صرف سر ہلا دیا۔
ابو کا کمرہ خالی ہو گیا۔
الماری بند۔
تصویر دیوار پر ویسی ہی۔
عمر روز اسکول سے آ کر وہ تصویر دیکھتا اور سوچتا:
"کیا تصویروں کے لوگ بھی لڑتے ہیں؟"
وقت گزرتا گیا۔
اتوار اب آدھا ہو گیا تھا۔
کبھی ابو کے ساتھ، کبھی امی کے ساتھ۔
ہر بار بیگ بدلتا، مگر دل وہیں رہ جاتا جہاں دونوں ایک ساتھ ہوتے تھے۔
اسکول میں جب استاد نے کہا:
"اپنے والدین پر مضمون لکھو"
عمر نے کاپی خالی چھوڑ دی۔
وہ کس پر لکھتا؟
ماں پر یا باپ پر؟
یا اس گھر پر جو اب موجود ہی نہیں تھا؟
ایک دن اس نے امی کو روتے دیکھا۔
دوسرے دن ابو کو خاموش۔
عمر نے فیصلہ کیا کہ وہ خوش رہے گا۔
کم از کم ان کے سامنے۔
وہ مسکرانے لگا، زیادہ نمبر لانے لگا، کم ضد کرنے لگا۔
مگر اندر کہیں وہ بچہ تھک گیا تھا۔
ایک رات اس نے اپنی ڈائری میں لکھا:
"اگر میں اچھا بچہ بن جاؤں تو کیا امی ابو پھر ساتھ ہو جائیں گے؟"
اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
سالوں بعد عمر بڑا ہوا۔
سمجھدار، ذمہ دار، مگر حد سے زیادہ خاموش۔
اس نے سیکھ لیا تھا کہ محبت کے ساتھ خوف بھی آتا ہے۔
کہ لوگ چھوڑ بھی سکتے ہیں۔
مگر اس نے ایک فیصلہ کیا —
جب وہ باپ بنے گا، تو بچے کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دے گا کہ وہ کسی فیصلے کا بوجھ ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- طلاق دو بڑوں کا فیصلہ ہوتا ہے، مگر اثر بچوں پر پڑتا ہے
- بچے الفاظ میں نہیں، خاموشی میں درد ظاہر کرتے ہیں
- والدین کا رویہ طلاق کے بعد بھی بچے کی دنیا بناتا ہے
- الگ ہو جانا آسان ہے، مگر والدین رہنا ذمہ داری ہے
اگر رشتے ٹوٹ بھی جائیں، تو بچوں کا دل نہ ٹوٹنے دیا جائے۔
— اختتام —