← تمام اردو کہانیاں

ان کہے نشان

An adult standing in front of a cracked mirror with a faint reflection of a child

حمزہ بچپن سے ہی خاموش تھا۔
وہ بچہ جو کھیل کے میدان میں کم، دیوار کے سائے میں زیادہ نظر آتا تھا۔

اس کے گھر میں شور تھا، مگر محبت نہیں۔
باپ کے ہاتھ میں غصہ تھا، ماں کی آنکھوں میں خوف۔

جب بھی آواز بلند ہوتی، حمزہ اپنے کان بند کر لیتا۔
وہ سمجھتا تھا کہ اگر وہ کچھ نہ بولے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

مگر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔

ایک دن باپ نے کہا:
"تم کچھ نہیں بنو گے۔"

یہ جملہ ایک زخم بن گیا۔
ایسا زخم جس پر مرہم کبھی نہیں رکھا گیا۔

سال گزرتے گئے۔
حمزہ بڑا ہو گیا، ڈگریاں لے لیں، نوکری بھی اچھی مل گئی۔

لوگ کہتے:
"تم بہت سیریس ہو۔"

وہ مسکرا دیتا۔
وہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کی سنجیدگی کے پیچھے ڈر چھپا ہے — ڈر ناکام ہونے کا،
ڈر چھوڑ دیے جانے کا۔

محبت کے رشتے بھی آئے، مگر ٹوٹ گئے۔
وہ قریب آتا، پھر پیچھے ہٹ جاتا۔

کیونکہ اسے سیکھایا گیا تھا کہ قربت درد لاتی ہے۔

ایک دن اس کی ملاقات ایک تھیراپسٹ سے ہوئی۔
پہلی بار کسی نے اس سے پوچھا:
"تم کیا محسوس کرتے ہو؟"

یہ سوال اس کے لیے اجنبی تھا۔

آہستہ آہستہ، اس نے بولنا سیکھا۔
وہ بچہ جو خاموش رہتا تھا، اب اپنے خوف کو نام دینے لگا۔

اس نے جانا کہ وہ ٹوٹا نہیں تھا —
بس زخمی تھا۔

اور ہر زخم کا علاج ممکن ہوتا ہے،
اگر ہم اسے مان لیں۔

آخرکار، اس نے خود کو معاف کیا۔
اس بچے کو، جو قصوروار نہیں تھا۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

ان کہے نشان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
ہم اپنے ماضی کے ذمہ دار نہیں،
مگر اپنے حال کے ذمہ دار ضرور ہیں۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →