← تمام اردو کہانیاں

جب میں نے خود کو سنا

A person standing alone on a hill at sunrise, soft light symbolizing self-acceptance

میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو سب کو خوش رکھے۔
میں ہاں کہتا رہا، چاہے دل انکار کرتا ہو۔
میں مسکراتا رہا، چاہے اندر شور مچا ہو۔

لوگ کہتے تھے:
"تم بہت سمجھدار ہو۔"
مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں خود کو کہاں چھوڑ آیا ہوں۔

میں اپنی غلطیوں پر خود کو سخت سزا دیتا تھا۔
ہر ناکامی کو اپنی قدر کا پیمانہ بنا لیتا۔
آئینے میں خود کو دیکھتا تو سوال کرتا:
"کیا تم واقعی کافی ہو؟"

جواب ہمیشہ خاموشی میں گم ہو جاتا۔

ایک دن میں تھک گیا۔
لوگوں سے نہیں — خود سے۔

میں نے پہلی بار خود سے کہا:
"رک جاؤ۔"

میں نے موبائل بند کیا۔
تنہائی سے نہیں بھاگا۔
اور پہلی بار اپنے احساسات کو سنا۔

مجھے احساس ہوا کہ میں خود سے اس طرح بات کرتا ہوں جیسے میں اپنا دشمن ہوں۔
وہ باتیں جو میں خود سے کہتا تھا، میں کبھی کسی اور سے نہ کہتا۔

میں نے آہستہ آہستہ بدلنا شروع کیا۔
خود کو وقت دینا۔
حدود مقرر کرنا۔
اور اپنی غلطیوں کو انسان ہونے کی علامت سمجھنا۔

ایک دن میں نے خود سے کہا:
"تم کامل نہیں ہو، مگر تم قیمتی ہو۔"

یہ جملہ کسی دعا کی طرح تھا۔

اب بھی دن مشکل ہوتے ہیں۔
اب بھی کبھی خود پر شک ہوتا ہے۔
مگر اب میں خود کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔

میں سیکھ چکا ہوں کہ خود سے محبت غرور نہیں —
یہ بقا ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

جب میں نے خود کو سنا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
جو انسان خود کا ہو جائے،
وہ دنیا سے نہیں ہارتا۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →