زندگی کی دوڑ اور کھویا ہوا سکون
وہ صبح بھی باقی صبحوں جیسی ہی تھی۔
الارم بجا، آنکھ کھلی، موبائل ہاتھ میں آیا، اور ذہن میں فوراً ایک فہرست بن گئی:
میٹنگ
ڈیڈ لائن
ای میل
ٹریفک
بل
مستقبل
عدنان بستر سے اٹھا، مگر دل وہیں رہ گیا۔
وہ کافی عرصے سے ایسے ہی جی رہا تھا —
جسم آگے، دل پیچھے۔
وہ کبھی رکا نہیں تھا۔
نہ اس دن جب پہلی نوکری ملی،
نہ اس دن جب ترقی ہوئی،
نہ اس دن جب اس کے والد کا انتقال ہوا۔
وہ جنازے سے سیدھا دفتر گیا تھا۔
لوگوں نے کہا:
"کتنا مضبوط ہے۔"
مگر حقیقت یہ تھی کہ اسے رونے کا وقت ہی نہیں ملا تھا۔
عدنان ایک متوسط گھرانے سے تھا۔
اسے سکھایا گیا تھا کہ
"رکنا کمزوری ہے"
"آگے بڑھتے رہو"
"پیچھے دیکھو گے تو ہار جاؤ گے"
اس نے یہی کیا۔
وہ کامیاب ہو گیا۔
اچھی تنخواہ، اچھا عہدہ، اچھی گاڑی۔
مگر رات کو سونے سے پہلے
ایک عجیب سی خالی جگہ
اس کے سینے میں سانس لیتی تھی۔
وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی کمرے میں ہوتا،
مگر باتیں ای میلز جتنی مختصر ہوتیں۔
بچہ اسکول سے آ کر کہتا:
"بابا، آج میں نے…"
اور عدنان کہتا:
"بعد میں۔"
یہ "بعد میں"
آہستہ آہستہ
"کبھی نہیں" بن گیا۔
ایک دن دفتر میں اسے اچانک چکر آیا۔
سانس تیز، ہاتھ ٹھنڈے، دل بے قابو۔
ڈاکٹر نے کہا:
"یہ دل کا نہیں، زندگی کا مسئلہ ہے۔"
یہ جملہ اس کے لیے نیا تھا۔
ڈاکٹر نے پوچھا:
"آخری بار کب سکون سے بیٹھے تھے؟"
عدنان خاموش ہو گیا۔
اس کے پاس تاریخ نہیں تھی۔
اسی ہفتے وہ زبردستی چھٹی لے کر
اپنے آبائی گاؤں گیا۔
وہی پرانا گھر،
وہی مٹی کی خوشبو،
وہی شام کا سناٹا۔
اس نے دیکھا کہ لوگ وہاں آہستہ چلتے ہیں۔
باتیں کرتے ہیں۔
آسمان دیکھتے ہیں۔
اس رات وہ چھت پر لیٹا
اور پہلی بار
کسی نوٹیفکیشن کے بغیر
ستارے گنے۔
اسے یاد آیا کہ
زندگی کوئی ریس نہیں تھی
جب اس نے شروع کی تھی۔
وہ واپسی پر بدل چکا تھا۔
پورا نہیں، مگر تھوڑا سا۔
اس نے کام کم نہیں کیا،
مگر خود کو شامل کرنا شروع کیا۔
اس نے سیکھا کہ
سکون وقت مانگتا ہے،
اور وقت — نیت۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- زندگی کی دوڑ ہمیں کہیں پہنچا سکتی ہے، مگر خود سے دور بھی
- ہر کامیابی قیمت مانگتی ہے، سوال یہ ہے: کیا قیمت درست ہے؟
- سکون کوئی منزل نہیں، ایک طریقۂ زندگی ہے
- رکنا ہار نہیں، خود کو بچانا ہے
اگر ہم نے رفتار کم نہ کی،
تو ایک دن زندگی ہمیں روک دے گی۔
— اختتام —