زندہ لاشیں
شہر جاگ رہا تھا۔
سڑکوں پر ہارن تھے،
دفاتر میں روشنی،
بازاروں میں شور۔
مگر اس شور میں
کچھ عجیب سا سناٹا تھا۔
لوگ چل رہے تھے،
باتیں کر رہے تھے،
ہنس رہے تھے —
مگر آنکھیں خالی تھیں۔
دانش بھی انہی میں سے ایک تھا۔
صبح آنکھ کھلتی،
موبائل چیک کرتا،
دن شروع ہو جاتا۔
اسے یاد نہیں تھا کہ
اس نے آخری بار
کب دل سے کسی بات پر خوشی محسوس کی تھی۔
نوکری اچھی تھی۔
گھر تھا۔
لوگ تھے۔
پھر بھی…
کچھ نہیں تھا۔
وہ خود کو آئینے میں دیکھتا
تو لگتا جیسے
کوئی اور کھڑا ہے۔
وہ آدمی جو
سوال نہیں کرتا،
احساس نہیں کرتا،
بس چلتا جاتا ہے۔
دانش کو بچپن یاد آتا تھا۔
جب چیزیں سادہ تھیں۔
جب ہنسنا وجہ نہیں مانگتا تھا۔
جب تھکن صرف جسمانی ہوتی تھی۔
اب تھکن
روح میں اتر چکی تھی۔
وہ دفتر میں بیٹھا
فائل دیکھتا،
ای میل لکھتا،
مگر اندر کچھ ہلتا نہیں تھا۔
ساتھی کہتے:
"سب ٹھیک ہے نا؟"
وہ جواب دیتا:
"ہاں۔"
یہ سب سے جھوٹا لفظ تھا
جو وہ روز بولتا تھا۔
ایک دن اس نے نوٹس کیا کہ
لوگ مرنے پر روتے ہیں،
مگر جیتے جی
کوئی کسی کو نہیں دیکھتا۔
اس کے پڑوس میں
ایک آدمی مر گیا۔
دفن ہو گیا۔
زندگی چلتی رہی۔
دانش نے سوچا:
"اگر میں کل مر جاؤں
تو کیا فرق پڑے گا؟"
یہ سوال خطرناک تھا،
مگر سچا۔
اس نے محسوس کیا کہ
وہ زندہ تو ہے،
مگر موجود نہیں۔
وہ باتھ روم میں
اپنے چہرے پر پانی مارتا
اور سوچتا:
"میں کہاں ہوں؟"
ایک دن وہ دفتر سے
غیر حاضری لے کر
ایک پارک میں جا بیٹھا۔
وہاں بچے کھیل رہے تھے۔
ہنس رہے تھے۔
گر رہے تھے۔
رو رہے تھے۔
اور پھر دوبارہ کھیلنے لگتے تھے۔
دانش کی آنکھیں بھر آئیں۔
اسے احساس ہوا کہ
مسئلہ زندگی میں نہیں،
زندگی کے طریقے میں ہے۔
ہم نے زندہ رہنے کو
صرف بقا بنا لیا تھا۔
اس دن اس نے
کوئی بڑا فیصلہ نہیں کیا۔
کوئی ڈرامائی قدم نہیں اٹھایا۔
اس نے بس
آہستہ جینا شروع کیا۔
کم بولنا۔
کم دکھاوا۔
زیادہ محسوس کرنا۔
وہ مکمل نہیں بدلا۔
مگر زندہ ہونے لگا۔
اور شاید…
یہی کافی تھا۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہر سانس لینے والا زندہ نہیں ہوتا
- جذباتی اور روحانی موت سب سے خطرناک ہوتی ہے
- جدید زندگی ہمیں مصروف تو رکھتی ہے، زندہ نہیں
- جینا محسوس کرنے کا نام ہے، صرف چلتے رہنے کا نہیں
اگر ہم نے خود کو محسوس کرنا چھوڑ دیا،
تو ہم بھیڑ میں بھی
اکیلے اور خالی رہ جائیں گے۔
زندگی ہمیں آواز نہیں دیتی —
ہمیں رک کر سننا پڑتا ہے۔
— اختتام —