ہمیشہ بعد میں
سعدیہ کو ہمیشہ یہ احساس رہا کہ وہ زندگی میں ایک اضافی جملہ ہے۔ ضروری تو ہے، مگر بنیادی نہیں۔
بچپن سے ہی ایسا تھا۔
گھر میں اگر مہمان آتے تو کہا جاتا: "سعدیہ، ذرا ایڈجسٹ کر لو۔"
اگر بہن کو کچھ چاہیے ہوتا تو کہا جاتا: "تم سمجھدار ہو، بعد میں لے لینا۔"
یہ "بعد میں" آہستہ آہستہ اس کی پہچان بن گیا۔
اس نے سیکھ لیا کہ کم مانگو، کم چاہو، کم محسوس کرو۔
کیونکہ زیادہ چاہنے والوں کو مایوسی زیادہ ملتی ہے۔
اسکول میں وہ اچھی تھی۔ نمبر بھی اچھے، رویّہ بھی۔
مگر کسی کی خاص نہیں تھی۔
ٹیچر پسند کرتے تھے،
مگر نمایاں نہیں کرتے تھے۔
دوست تھے، مگر ترجیح نہیں تھی۔
وہ ہمیشہ وہی ہوتی
جسے سب اپنی سہولت کے مطابق یاد کرتے۔
جوانی میں محبت آئی۔
یا کم از کم
اسے لگا کہ آئی ہے۔
وہ پوری تھی۔ سچی۔ موجود۔
مگر سامنے والا کہتا: "ابھی حالات ٹھیک نہیں۔" "تھوڑا وقت دو۔"
اور سعدیہ وقت دیتی رہی۔
وہ اس کے لیے ہمیشہ دستیاب رہی، مگر وہ اس کے لیے ہمیشہ مصروف رہا۔
ایک دن اس نے کہا: "تم بہت اچھی ہو، بس… میں تیار نہیں ہوں۔"
یہ جملہ نیا نہیں تھا۔ بس شکل بدلی تھی۔
اس دن سعدیہ نے خود کو پہلی بار خالی محسوس کیا۔
ایسا نہیں تھا کہ اس کے پاس لوگ نہیں تھے۔
مسئلہ یہ تھا کہ اس کے لیے کوئی نہیں تھا۔
وہ ہر رشتے میں دوسرے نمبر پر رہی۔ کبھی ماں باپ کے بعد، کبھی بہن بھائیوں کے بعد، کبھی کسی اور کے بعد۔
اور آخرکار اپنے بعد بھی۔
ایک رات وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
اس نے خود سے پوچھا:
"اگر میں نہ ہوں
تو کیا کسی کی زندگی رُک جائے گی؟"
جواب نہیں آیا۔ اور یہی جواب سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
اس رات اس نے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا۔ کوئی لڑائی نہیں کی۔ کوئی الزام نہیں لگایا۔
اس نے بس اپنے آپ کو بعد میں رکھنا چھوڑ دیا۔
اس نے سیکھا کہ ہر جگہ خود کو فِٹ کرنا محبت نہیں ہوتی۔
اس نے پہلی بار اپنی ضرورت کو ضروری مانا۔
کچھ لوگ ناراض ہوئے۔ کچھ دور ہو گئے۔
مگر پہلی بار
وہ خود کے قریب آئی۔
اور اسے احساس ہوا کہ
جو شخص خود کی ترجیح نہ بنے،
دنیا اسے کبھی ترجیح نہیں بناتی۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- ہمیشہ سمجھوتہ کرنے والے لوگ اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں
- ہر رشتہ قربانی نہیں مانگتا، کچھ احترام مانگتے ہیں
- خود کو بعد میں رکھنا آہستہ آہستہ خود کو مٹا دیتا ہے
- خود کی ترجیح بننا خود غرضی نہیں، بقا ہے
اگر ہم خود کے لیے وقت نہ نکالیں،
تو ایک دن ہم خود کو
کسی کے لیے بھی اہم نہیں پائیں گے۔
اور یہ احساس
سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔
— اختتام —