← تمام اردو کہانیاں

سب کے لیے آسان

A woman standing by a window at dusk, soft light, reflective mood, city blurred outside

مہرین کو کبھی یہ سکھایا ہی نہیں گیا تھا کہ
“نہیں” بھی ایک مکمل جملہ ہوتا ہے۔

بچپن سے ہی وہ آسان تھی۔

ماں کہتی:
"تم سمجھدار ہو، تم ایڈجسٹ کر لو۔"

باپ کہتا:
"تم ضد نہیں کرتیں، اچھی بات ہے۔"

اور مہرین…
مسکرا دیتی۔

اس کی مسکراہٹ
لوگوں کے لیے سہولت تھی۔

اگر گھر میں مسئلہ ہوتا،
وہ خاموش رہتی۔

اگر کسی کا موڈ خراب ہوتا،
وہ خود کو پیچھے کر لیتی۔

اس نے سیکھ لیا تھا کہ
امن برقرار رکھنے کے لیے
اپنی آواز دبانا پڑتی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔

وہ بڑی ہوئی۔
تعلیم مکمل کی۔
شادی ہوئی۔

نیا گھر،
نئے لوگ،
پرانی عادت۔

وہاں بھی
وہ آسان ہی رہی۔

ساس کہتی:
"یہ لڑکی تو بڑی سلیقے والی ہے،
کبھی جواب نہیں دیتی۔"

شوہر کہتا:
"تم بہت سمجھدار ہو،
ہر بات کو دل پر نہیں لیتیں۔"

مہرین ہنستی،
مگر اندر
کچھ ٹوٹتا جاتا۔

وہ تھکتی تھی۔
مگر تھکن بتانا
اسے آتا نہیں تھا۔

اگر وہ کہتی:
"مجھے بھی آرام چاہیے"
تو اسے لگتا
وہ خود غرض ہو جائے گی۔

اگر وہ کہتی:
"یہ مجھ سے نہیں ہوگا"
تو اسے لگتا
وہ بری بن جائے گی۔

تو اس نے
خاموشی چن لی۔

دن رات،
ذمہ داریاں،
توقعات۔

اس کے حصے میں
ہمیشہ زیادہ آیا۔

اور تعریف؟
بس اتنی:
"یہ تو سب سنبھال لیتی ہے۔"

کسی نے نہیں پوچھا:
"تم سنبھل بھی پاتی ہو؟"

ایک دن
وہ باورچی خانے میں کھڑی تھی۔

ہاتھ میں چمچ تھا،
چولہا جل رہا تھا،
اور آنکھوں سے
آنکھیں بند ہو گئیں۔

وہ زمین پر بیٹھ گئی۔

کوئی حادثہ نہیں ہوا۔
کوئی چیخ نہیں نکلی۔

بس ایک لمحہ تھا
جس میں اس نے محسوس کیا
کہ وہ اندر سے
خالی ہو چکی ہے۔

اس رات
وہ دیر تک جاگتی رہی۔

اس نے سوچا:
"اگر میں کل نہ اٹھوں
تو کیا کسی کو
میری کمی محسوس ہوگی؟"

یہ سوال
اسے خوفزدہ نہیں کر رہا تھا۔

یہی سب سے خطرناک بات تھی۔

اگلے دن
اس نے سب کچھ نہیں بدلا۔

بس ایک چھوٹی سی بات کی۔

جب کسی نے کہا:
"تم کر لو نا، تمہیں تو عادت ہے۔"

اس نے آہستہ سے کہا:
"نہیں، آج نہیں۔"

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

کچھ لوگوں کو برا لگا۔
کچھ حیران ہوئے۔

مہرین کے دل کی دھڑکن تیز تھی،
مگر وہ زندہ محسوس کر رہی تھی۔

اسے احساس ہوا کہ
سب کے لیے آسان بننا
اکثر خود کے لیے
قبر کھودنے جیسا ہوتا ہے۔

اور خود کو بچانا
کوئی جرم نہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

سب کے لیے آسان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر ہم نے خود کو بار بار آسان بنا دیا،
تو دنیا ہمیں استعمال کرنا سیکھ جائے گی۔

اور ایک دن
ہم خود کو
ڈھونڈتے رہ جائیں گے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →