← تمام اردو کہانیاں

اپنی مرضی کے بغیر زندگی

A person standing at a crossroads at dusk, blurred paths, moody sky, contemplative tone

فراز کی زندگی بالکل درست لگتی تھی۔

اچھی ڈگری،
معروف کمپنی میں نوکری،
وقت پر شادی،
سلیقے سے جیتی ہوئی زندگی۔

لوگ کہتے تھے:
"تم نے تو زندگی سیٹ کر لی ہے۔"

فراز مسکرا دیتا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا
یہ زندگی سیٹ نہیں،
چُنی ہوئی بھی نہیں تھی۔

بچپن سے ہی
اس کے لیے راستے طے تھے۔

کون سا مضمون،
کون سی فیلڈ،
کون سا مستقبل۔

اگر وہ کہتا:
"مجھے کچھ اور کرنا ہے"
تو جواب ملتا:
"یہ شوق ہے، پیشہ نہیں۔"

اس نے سیکھ لیا کہ
خوابوں کو
دل کے کسی کونے میں
خاموش رکھنا پڑتا ہے۔

وقت گزرتا گیا۔

وہ وہی بنتا گیا
جو سب چاہتے تھے۔

مگر ہر کامیابی کے بعد
ایک عجیب سی خالی جگہ
اس کے اندر بڑھتی گئی۔

وہ دفتر میں بیٹھا
اسکرین دیکھتا
اور سوچتا:
"اگر میں آج سب چھوڑ دوں
تو کیا میں آزاد ہو جاؤں گا؟"

پھر اگلا خیال آتا:
"اور اگر سب ٹوٹ گیا
تو ذمہ دار کون ہوگا؟"

یہی وہ جگہ تھی
جہاں اس کی مرضی
ہمیشہ ہار جاتی تھی۔

شادی ہوئی۔

اچھی لڑکی تھی۔
سمجھدار،
مہذب،
مناسب۔

محبت آہستہ آہستہ
ایک معاہدہ بن گئی۔

باتیں ذمہ داریوں پر،
خواب بچوں تک محدود۔

فراز آئینے میں خود کو دیکھتا
تو ایک مہذب،
خاموش آدمی نظر آتا۔

مگر وہ خود کو
پہچان نہیں پاتا تھا۔

ایک رات
وہ چھت پر بیٹھا
شہر کی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔

اس نے خود سے پوچھا:
"اگر مجھے دوبارہ موقع ملے
تو کیا میں یہی چنوں گا؟"

جواب فوراً آ گیا۔

"نہیں۔"

یہ جواب
اسے خوفزدہ بھی کر رہا تھا
اور زندہ بھی۔

اس نے اگلے دن
سب کچھ نہیں بدلا۔

نوکری نہیں چھوڑی،
گھر نہیں چھوڑا۔

بس ایک کام کیا۔

اس نے اپنی آواز کو
سننا شروع کیا۔

وہ جو اندر سے
برسوں سے
خاموش بیٹھی تھی۔

اس نے چھوٹے فیصلے
خود کرنے شروع کیے۔

کچھ لوگوں کو برا لگا۔
کچھ نے کہا:
"تم بدل گئے ہو۔"

فراز نے دل میں سوچا:
"نہیں…
میں واپس آیا ہوں۔"

وہ مکمل آزاد نہیں ہوا۔
مگر اس نے جان لیا کہ
زندگی صرف جینا نہیں،
چننا بھی ہوتی ہے۔

اور جو زندگی
اپنی مرضی کے بغیر جئی جائے
وہ آہستہ آہستہ
انسان کو اندر سے مار دیتی ہے۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:

اپنی مرضی کے بغیر زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اگر ہم نے اپنی زندگی کا اختیار
ہمیشہ دوسروں کو دے دیا،
تو ایک دن
ہمارے پاس جینے کی وجہ بھی نہیں بچے گی۔

زندگی کامل نہیں مانگتی،
بس اپنی مانگتی ہے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →