خوابوں کے جنازے
احمد کے پاس ایک پرانی کاپی تھی۔
اس کا رنگ اڑ چکا تھا،
کاغذ زرد،
اور کنارے پھٹے ہوئے۔
اس کاپی میں
کچھ نقشے نہیں تھے،
کچھ حساب نہیں تھا۔
اس میں خواب تھے۔
بچپن میں
وہ اس کاپی کو
سینے سے لگا کر سوتا تھا۔
وہ لکھتا تھا:
“میں مصور بنوں گا۔”
“میں اپنی کہانیاں لکھوں گا۔”
“میں دنیا دیکھوں گا۔”
اس وقت
یہ سب آسان لگتا تھا۔
پھر وقت آیا۔
باپ نے کہا:
"یہ سب بچوں کی باتیں ہیں۔"
ماں نے کہا:
"پہلے ذمہ داری، پھر شوق۔"
استاد نے کہا:
"اس میں مستقبل نہیں۔"
احمد نے کاپی
الماری میں رکھ دی۔
اور آہستہ آہستہ
وہ خواب
سانس لینا بھول گئے۔
وہ پڑھا۔
نوکری کی۔
شادی کی۔
زندگی چلتی رہی۔
مگر ہر بار
جب وہ کسی دیوار پر
پینٹنگ دیکھتا،
یا کسی کتاب کی خوشبو سونگھتا،
تو دل میں
کچھ ہلتا تھا۔
وہ فوراً
اس احساس کو دبا دیتا۔
کیونکہ بڑے لوگ
ایسی باتیں نہیں سوچتے۔
ایک دن
وہ اپنے بیٹے کے کمرے میں گیا۔
بچہ رنگوں سے دیوار گندا کر رہا تھا۔
احمد نے ڈانٹنے کے لیے
منہ کھولا —
پھر رک گیا۔
اس منظر میں
اسے اپنا بچپن نظر آ گیا۔
اسی رات
اس نے الماری کھولی۔
وہی پرانی کاپی
وہیں پڑی تھی۔
اس نے ایک صفحہ کھولا۔
لکھا تھا:
“اگر میں خواب پورے نہ کر سکا
تو میں خوش نہیں رہوں گا۔”
احمد کی آنکھوں سے
آنسو بہنے لگے۔
یہ آنسو
ناکامی کے نہیں تھے،
یہ جنازے کے تھے۔
اس نے سمجھ لیا
کہ اس نے اپنے خوابوں کو
مارا نہیں تھا —
دفن کیا تھا۔
اور دفن شدہ خواب
وقت کے ساتھ
بدبو دینے لگتے ہیں۔
اگلے دن
اس نے سب کچھ نہیں بدلا۔
وہ مصور نہیں بنا۔
وہ مصنف نہیں بنا۔
مگر اس نے
ایک پینسل خریدی۔
ایک نئی کاپی لی۔
اور اپنے بیٹے کے ساتھ
رنگ بھرنے لگا۔
وہ خواب پورے نہیں ہوئے،
مگر دفن بھی نہیں رہے۔
کچھ جنازے
واپس نہیں آتے،
مگر کچھ قبریں
کھولی جا سکتی ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
- خواب مرنے کے لیے نہیں بنتے، دفن کیے جاتے ہیں
- ذمہ داریاں خوابوں کا دشمن نہیں، انکار دشمن ہے
- دفن شدہ خواب انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں
- شروعات چھوٹی ہو سکتی ہے، مگر ضروری ہوتی ہے
اگر ہم نے اپنے خوابوں کو
زندگی بھر کے لیے دفن کر دیا،
تو ایک دن
ہم خود کو بھی
ان کے ساتھ دفن پایں گے۔
خواب پورے ہونا ضروری نہیں،
زندہ رہنا ضروری ہے۔
— اختتام —