زندگی سے تھکے لوگ
ارسلان کو زندگی سے کوئی شکایت نہیں تھی۔
اور شاید یہی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
نوکری تھی۔
چھت تھی۔
لوگ تھے۔
پھر بھی
ہر صبح آنکھ کھلنا
ایک ذمہ داری لگتی تھی،
نعمت نہیں۔
وہ الارم بند کرتا،
چھت کو دیکھتا،
اور چند سیکنڈ
یہ سوچتا رہتا:
“کاش آج کچھ نہ کرنا پڑے۔”
یہ سستی نہیں تھی۔
یہ تھکن تھی۔
ایسی تھکن
جس کا وزن
دل پر ہوتا ہے۔
ارسلان ہنستا تھا۔
محفل میں بات کرتا تھا۔
لوگ کہتے:
“تم تو بڑے پازیٹو ہو۔”
وہ سر ہلا دیتا۔
کیونکہ وہ کیسے بتاتا
کہ اندر
ہر چیز بھاری ہے۔
وہ دن بھر کام کرتا،
شام کو گھر آتا،
اور موبائل پر
بے مقصد اسکرول کرتا رہتا۔
نہ خوشی،
نہ غم۔
بس ایک خالی پن
جو شور سے نہیں بھرتا تھا۔
اسے یاد نہیں تھا
آخری بار
کب وہ کسی بات کے لیے
واقعی پُرجوش ہوا تھا۔
کبھی وہ سوچتا:
“کیا یہی سب ہے؟”
پھر فوراً
خود کو ڈانٹ دیتا:
“ناشکری مت کرو۔”
یہ جملہ
اس کے احساسات کو
دبا دیتا تھا۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں
تھک جانا
کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں:
“سب کے مسائل ہیں۔”
“مضبوط بنو۔”
“وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔”
مگر وقت
ہر زخم نہیں بھرتا،
کچھ زخم
وقت کے ساتھ
گہرے ہو جاتے ہیں۔
ایک رات
ارسلان دیر تک جاگتا رہا۔
اس نے خود سے پوچھا:
“اگر کل سب ختم ہو جائے
تو کیا میں سکون محسوس کروں گا؟”
یہ سوال
اسے خوفزدہ نہیں کر رہا تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا
جب اس نے سمجھا
کہ وہ افسردہ نہیں،
بس
زندگی سے تھک چکا ہے۔
اگلے دن
اس نے چھٹی لی۔
کہیں نہیں گیا۔
بس
خاموشی میں بیٹھا رہا۔
اس نے خود کو
پہلی بار
بغیر الزام کے
سننے کی کوشش کی۔
اس نے مان لیا
کہ وہ مضبوط نہیں،
بس
خاموش ہے۔
اور کبھی کبھی
خاموشی
انسان کو
آہستہ آہستہ
کھا جاتی ہے۔
اس دن
کوئی معجزہ نہیں ہوا۔
مگر اس نے
یہ سیکھ لیا
کہ تھکن مان لینا
ختم ہونا نہیں،
شفا کی شروعات ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں ایک نہایت نازک اور ضروری سچ سکھاتی ہے:
- ہر تھکا ہوا انسان افسردہ نہیں ہوتا، مگر توجہ ضرور چاہتا ہے
- جینے کی خواہش کا کم ہونا بھی ایک علامت ہے
- احساسات کو دبانا انہیں ختم نہیں کرتا
- خود کو سننا پہلا قدم ہے
ہر وہ شخص جو ہنس رہا ہے
ضروری نہیں
وہ ٹھیک بھی ہو۔
کبھی کبھی
سب سے بڑا درد
بس یہ ہوتا ہے
کہ انسان
آگے چلتے چلتے
تھک جاتا ہے۔
— اختتام —