← تمام اردو کہانیاں

دعا مانگتے مانگتے خاموش ہو جانا

A person sitting alone in a dimly lit room with hands clasped, soft window light, contemplative mood

زینب کبھی دعا مانگتے نہیں تھکتی تھی۔

ہر نماز کے بعد،
ہر مشکل میں،
ہر آنسو کے ساتھ
اس کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے۔

وہ مانگتی تھی:
سکون،
راستہ،
آسانی،
اور کبھی کبھی
بس یہ کہ
“یا اللہ، اب سن لے۔”

اس کی زندگی میں
کوئی ایک بڑی ٹوٹ پھوٹ نہیں تھی۔

بس
مسلسل چھوٹے زخم تھے۔

شادی میں دیر،
رشتوں کی باتیں،
لوگوں کے سوال،
اور ماں کی خاموش نظریں۔

پھر نوکری گئی۔
پھر ابو بیمار ہوئے۔
پھر گھر کے خرچے۔

زینب نے دعا میں
الفاظ بدل دیے،
آواز نہیں۔

کبھی کہتی:
“یا اللہ، اگر یہی بہتر ہے
تو مجھے مضبوط کر دے۔”

کبھی کہتی:
“یا اللہ، بس تھوڑا سا اشارہ دے دے۔”

وقت گزرتا گیا۔

لوگ کہتے:
“دعا میں طاقت ہے۔”
“اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”

زینب سر ہلاتی۔
مگر اس کے اندر
ایک سوال پل رہا تھا:
“کتنا صبر؟”

ایک رات
وہ سجدے میں دیر تک پڑی رہی۔

الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔

دل بھرا ہوا تھا،
مگر زبان خالی۔

یہ پہلی بار تھا
جب اس نے
کچھ نہیں مانگا۔

وہ اٹھ کر
خاموشی سے بیٹھ گئی۔

نہ شکوہ،
نہ سوال،
نہ التجا۔

بس
خاموشی۔

اسے لگا
جیسے وہ ہار گئی ہو۔

مگر حقیقت یہ تھی
کہ وہ تھک گئی تھی۔

اگلے دن
اس نے نماز پڑھی،
مگر دعا نہیں مانگی۔

کسی نے پوچھا:
“سب ٹھیک ہے؟”

اس نے کہا:
“ہاں، بس خاموش ہوں۔”

یہ خاموشی
اللہ سے دوری نہیں تھی۔

یہ وہ لمحہ تھا
جب اس کے پاس
کہنے کو
کچھ بھی نہیں بچا تھا۔

دن گزرتے گئے۔

زینب نے
زندگی کو
جیسے ہے
ویسے قبول کرنا شروع کیا۔

وہ ہنسی نہیں،
مگر ٹوٹی بھی نہیں۔

ایک دن
وہ ماں کے ساتھ بیٹھی تھی۔

ماں نے کہا:
“بیٹا، کبھی کبھی
اللہ جواب
الفاظ میں نہیں دیتا۔”

یہ جملہ
زینب کے دل میں
آہستہ سے اترا۔

اس رات
اس نے سجدہ کیا۔

کوئی لمبی دعا نہیں۔
بس اتنا کہا:
“یا اللہ، میں یہاں ہوں۔”

بس یہی۔

اور شاید
یہی کافی تھا۔

کیونکہ کچھ دعائیں
مانگنے کے لیے نہیں،
حاضر ہونے کے لیے ہوتی ہیں۔


معنی اور غور و فکر—

یہ کہانی ہمیں ایک نہایت نازک اور روحانی سچ بتاتی ہے:

دعا مانگتے مانگتے خاموش ہو جانا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
اللہ کو ہمارے الفاظ کی نہیں،
ہمارے حال کی خبر ہوتی ہے۔

اور کبھی کبھی
سب سے سچی دعا
وہ ہوتی ہے
جو کہی ہی نہ جا سکے۔


— اختتام —

← پچھلی کہانی اگلی کہانی →