ناکام باپ کی نظریں
سلیم نے کبھی اپنے بچوں کے سامنے
اپنی آنکھیں نہیں جھکائیں۔
وہ ہنستا،
باتیں بناتا،
حوصلہ دکھاتا۔
مگر جب سب سو جاتے،
وہ کمرے کی بتیاں بند کر کے
اکیلا بیٹھ جاتا۔
اسے وہ دن یاد آتا
جب اس نے وعدہ کیا تھا:
“میں تمہیں وہ سب دوں گا
جو مجھے نہیں ملا۔”
وقت نے
اس وعدے کو
مہنگا ثابت کیا۔
کارخانہ بند ہو گیا۔
پھر قرض۔
پھر دن رات کی فکر۔
سلیم نے ہار نہیں مانی،
مگر کامیاب بھی نہ ہو سکا۔
بچوں کی فرمائشیں
سادہ تھیں۔
نئے جوتے،
اسکول ٹرپ،
کبھی کبھی
صرف آئس کریم۔
اور ہر بار
سلیم کا دل
ڈوب جاتا۔
وہ کہتا:
“اگلے مہینے۔”
یہ جملہ
اس کے لیے
معافی تھا،
اور سزا بھی۔
ایک دن
بیٹا اسکول سے آیا۔
خاموش تھا۔
سلیم نے پوچھا:
“کیا ہوا؟”
بیٹے نے کہا:
“سب کے ابو آئے تھے
فیس دینے۔
میرے نہیں آئے۔”
یہ جملہ
سلیم کے سینے میں
کیل کی طرح گڑ گیا۔
اس رات
اس نے پہلی بار
اپنی بیوی سے کہا:
“میں ناکام ہو گیا ہوں۔”
بیوی خاموش رہی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی
یہ ناکامی
محبت کی کمی نہیں تھی۔
سلیم بچوں کے کمرے میں گیا۔
وہ سو رہے تھے۔
اس نے ان کے چہروں کو دیکھا،
اور نظریں جھکا لیں۔
کیونکہ وہ سوچ رہا تھا:
“یہ میرے ساتھ کیوں جُڑے ہیں؟
میں انہیں کیا دے سکا؟”
یہ سوال
اسے کھا رہا تھا۔
وہ جانتا تھا
وہ برا باپ نہیں ہے،
مگر اچھا بھی
اپنی نظر میں
نہیں تھا۔
دن گزرتے گئے۔
بچے بڑے ہوئے۔
انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی،
مگر سلیم
ہر خاموشی کو
اپنی ناکامی سمجھتا رہا۔
ایک دن
بیٹے نے کہا:
“ابو، آپ میرے ہیرو ہیں۔”
سلیم ہنس دیا۔
مگر اس کی آنکھیں
نم ہو گئیں۔
کیونکہ ہیرو
خود کو
کبھی ہیرو نہیں سمجھتا۔
وہ بس
برداشت کرتا ہے۔
سلیم نے اُس دن
یہ سیکھا کہ
ناکامی ہمیشہ
پیسوں میں نہیں ناپی جاتی۔
کچھ باپ
خالی ہاتھ بھی
اپنی اولاد کو
پورا وجود دے دیتے ہیں۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں ایک نہایت اہم اور کم بولے جانے والے سچ سے روشناس کراتی ہے:
- ہر خاموش باپ ناکام نہیں ہوتا
- مردوں کی شرمندگی اکثر محبت میں لپٹی ہوتی ہے
- بچوں کو ہمیشہ آسائش نہیں، موجودگی یاد رہتی ہے
- باپ اپنی قدر خود نہیں جان پاتے
کچھ لوگ زندگی میں
جیت نہیں پاتے،
مگر ہار کر بھی
اپنا سب کچھ دے دیتے ہیں۔
اور شاید
یہی اصل کامیابی ہے۔
— اختتام —