شادی میں گھٹتی ہوئی عورت
حنا کو کبھی یہ ڈر نہیں تھا
کہ اس کا شوہر برا ہوگا۔
ڈر کچھ اور تھا —
کہ وہ غائب ہو جائے گی۔
شادی کے شروع کے دن
سب ٹھیک تھے۔
نیا گھر،
نئی ذمہ داریاں،
نئے لوگ۔
حنا نے خود کو
خوش رکھنے کی کوشش کی۔
وہ سلیقہ سیکھتی،
مسکراتی،
سمجھوتے کرتی۔
لوگ کہتے:
"بہت خوش نصیب ہے،
شوہر اچھا ہے۔"
اور واقعی
وہ برا نہیں تھا۔
وہ مارتا نہیں تھا،
گالیاں نہیں دیتا تھا،
بدنام نہیں کرتا تھا۔
وہ بس
سنتا نہیں تھا۔
حنا بولتی تو
وہ موبائل دیکھتا۔
حنا تھک جاتی تو
وہ کہتا:
"سب عورتیں کرتی ہیں۔"
اگر حنا کہتی:
"مجھے کچھ الگ کرنا ہے"
تو جواب ملتا:
"یہ سب شادی کے بعد فضول لگتا ہے۔"
آہستہ آہستہ
اس نے بولنا کم کر دیا۔
کیونکہ ہر بات
وضاحت مانگتی تھی،
اور وضاحت
تھکا دیتی ہے۔
وہ ماں بنی۔
ذمہ داریاں بڑھ گئیں۔
اور اس کی دنیا
ایک دائرے میں سمٹ گئی۔
بچہ،
گھر،
ساس سسر،
شوہر۔
اور وہ خود؟
وہ کہیں درمیان میں
کھو گئی۔
آئینے میں دیکھتی
تو ایک عورت نظر آتی
جس کی آنکھوں میں
چمک نہیں تھی۔
وہ کبھی سوچتی:
"کیا میں ناشکری کر رہی ہوں؟"
کیونکہ سب کچھ تو تھا۔
بس وہ نہیں تھی۔
ایک دن
اس نے اپنی پرانی ڈائری کھولی۔
اس میں خواب تھے۔
خیال تھے۔
باتیں تھیں۔
وہ دیر تک
اسے پڑھتی رہی۔
اور پہلی بار
اسے احساس ہوا
کہ اسے مارا نہیں گیا —
بس دبایا گیا تھا۔
ایک رات
اس نے شوہر سے کہا:
"مجھے لگتا ہے
میں ختم ہو رہی ہوں۔"
شوہر نے کہا:
"تم زیادہ سوچتی ہو۔"
یہ جملہ
اس کے لیے
حتمی تھا۔
اس رات
حنا روئی نہیں۔
بس خاموش ہو گئی۔
مگر اس خاموشی میں
ایک بیج تھا۔
اس نے اگلے دن
کچھ چھوٹا سا کیا۔
اس نے خود کے لیے
وقت نکالا۔
تھوڑا پڑھا۔
تھوڑا لکھا۔
تھوڑا خود کو یاد کیا۔
وہ بغاوت نہیں تھی۔
بس بقا تھی۔
کیونکہ ہر عورت
جو چیخ نہیں سکتی،
مر بھی نہیں سکتی۔
کچھ عورتیں
بس گھٹتی رہتی ہیں۔
اور جو عورت
خود کو بچا لے —
وہی اصل بہادر ہوتی ہے۔
معنی اور غور و فکر—
یہ کہانی ہمیں ایک نہایت باریک مگر خطرناک سچ سکھاتی ہے:
- ہر تکلیف تشدد نہیں ہوتی
- نظرانداز ہونا بھی ایک قسم کا ظلم ہے
- عورت کا خاموش ہو جانا، خوش ہونا نہیں ہوتا
- خود کو بچانا خود غرضی نہیں، ضرورت ہے
اگر ایک عورت
ہر رشتے میں خود کو کم کرتی جائے،
تو ایک دن
وہ خود ہی
ختم ہو جائے گی۔
اور کسی کو
فرق بھی نہیں پڑے گا۔
— اختتام —